طالبان عہدیدا رکے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

   

کابل، 31 جولائی (یو این آئی): افغانستان میں داعش خراسان نے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کے ایک عہدیدار کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ان کے ایک محافظ کو بھی ہلاک کیا گیا، جبکہ طالبان حکام نے ایک مشتبہ حملہ آور کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں صوبے کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری منگل کو اس وقت فائرنگ میں ہلاک ہو گئے تھے جب وہ صوبائی دارالحکومت فیض آباد جا رہے تھے ۔داعش خراسان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے طالبان عہدیدار کو مشین گنوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ذبیح اللہ امیری اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہو گیا۔ داعش خراسان افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے سرگرم تنظیم سمجھی جاتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ذبیح اللہ امیری جنوبی صوبہ ہلمند کے گورنر امان الدین منصور کے قریبی رشتہ دار تھے اور افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت سے بھی وابستہ تھے ۔طالبان حکام نے بتایا ہے کہ واقعے میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، جبکہ دوسرا حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت نے ایک بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے حملے حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے اور ایسے اقدامات کے باوجود ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔