ایک منصف کی طرح جُرم کو پھانسی دیکر
تم نے بنیاد جو ڈالی ہے بڑی پیاری ہے
دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کی جانب سے جو احتجاج شروع کیا گیا تھا اس وقت شائد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ احتجاج اس قدر شدت اور وسعت اختیار کر لے گا اور اس کے نتیجہ میں حکومت کو بھی اپنے 12 سال کے اقتدار میں پہلی مرتبہ دفاعی موقف اختیار کرنا پڑے گا اور صورتحال اس کیلئے بھی غیر متوقع رہے گی ۔ اس کے علاوہ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے چھاتروں کی گونج مہم کا آغاز کرتے ہوئے طلباء کے مسائل کو اجاگر کرنے اور طلباء کو آواز دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ راہول گاندھی ہندوستان میں تعلیمی مرکز سمجھے جانے والے راجستھان کے شہر کوٹا گئے ۔ وہاں انہوں نے طلباء کے ساتھ بات چیت کی اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ ان کے مسائل کو موضوع بحث بنانے کیلئے پہل کی تھی ۔ طلباء کے ساتھ قائد اپوزیشن جیسے رتبہ کے کسی لیڈر کی یہ شائد پہلی ملاقات تھی ۔ اس کے نتیجہ میں طلباء کو ایک نیا حوصلہ ملا تھا ۔ راہول گاندھی کی چھاتروں کی گونج مہم کو سارے ملک میں وسعت دی گئی اور کانگریس کی طلباء تنظیم کی جانب سے اس مہم کو آگے بڑھایا گیا ۔ اس کے علاوہ جب جنتر منتر پر طلباء کا احتجاج شروع ہوا تو یہ دہلی جیسے شہر کے ایک کونے میں شروع ہونے والا چند سو طلباء کا احتجاج سمجھا گیا تھا ۔ حالانکہ سوشیل میڈیا پر اس کی تشہیر ہو رہی تھی لیکن خود ساختہ نیشنل میڈیا نے اس سارے احتجاج کو اس طرح نظر انداز کیا جس طرح حکومت اپنے مخالفین یا اپوزیشن کو نظرانداز کرتی ہے ۔ نہ راہول گاندھی کی چھاتروں کی گونج کو کوئی تشہیر فراہم کی گئی اور نہ ہی جنتر منتر کے احتجاج کو چینلس پر کوئی جگہ دی گئی ۔ حکومت نے خود بھی ایک ماہ سے زائد کے وقت تک اس کو نظر انداز کئے رکھا ۔ کچھ مفاد پرست سوشیل میڈیا چینلس کی جانب سے چھاتروں کی گونج مہم اور سی جے پی کے احتجاج کو حسب روایت بدنام اور رسواء کرنے کی کوشش ضرور کی گئی تھی ۔ تاہم ان کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں اور ایک منظم اور صبر آزما انداز میں اس مہم اور احتجاج کو جاری رکھا جو اب سارے ملک میں موضوع بحث بن گیا ہے اورجس انداز میں طلباء اس سے وابستہ ہوئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے ۔
اس احتجاج کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس احتجاج کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دینے اور ہندو مسلم کی سیاست کے نام پر متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ملک کے نوجوانوں نے جس طرح سے اپنے مسائل اور شعبہ تعلیم میں موجود خامیوں اور بدعنوانیوں پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھی اس کے نتیجہ میں ساری کوششیں کامیاب ہوگئیں۔ حکومت ‘ اس کے آلہ کاروں اور مفادات حاصلہ کی جانب سے اپنی روش کے مطابق سماج میں پھوٹ ڈالنے اور تقسیم پسندانہ جذبات کو فروغ دینے کی بہت کوشش کی گئی تھی لیکن اس احتجاج نے اور طلباء کی خصوصی توجہ اور ان کی سمجھ بوجھ اور ان کے جذبہ نے پھوٹ پیدا کرنے کی بجائے سارے ملک کو ایک کردیا ہے اور متحد کردیا ہے ۔ آج جہاں کہیں بھی طلباء برادری کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے وہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ کوئی ہندو نہیں ہے اور نہ کوئی مسلمان ہے ۔ کوئی سکھ نہیں ہے اور نہ کوئی عیسائی ہے ۔ تمام مذاہب کے ماننے والے لوگ ایک دوسرے کی مذہبی وابستگی کا احترام کرتے ہوئے صرف اور صرف طلباء کے مسائل کو حل کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جس طرح سے احتجاجی طلباء کیلئے تائید و حمایت امڈ رہی ہے اس نے ہندوستان کو ایک بار پھر کثرت میں وحدت کے گہوارہ کی سمت آگے بڑھا دیا ہے اور نفرت کو فروغ دینے کی تمام تر کوششوں کو ملیا میٹ کردیا ہے ۔ اتحاد و یکجہتی کے پیام کو طلباء کے احتجاج سے جو تقویت ملی ہے وہ شائد مفادات حاصلہ اور بیما ر ذہنیت کے حامل عناصر کیلئے سب سے بڑی تکلیف کی بات ہے ۔
نوجوان کھلے عام اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہندوستان تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے اور یہاں نفرت زیادہ دیر نہیں چل سکتی ۔ ہندوستان کی مٹی میں محبت ہے اور ہندوستان کے عوام اس مٹی سے محبت کرتے ہیں۔ طلباء نے ہندوستان کی فرقہ وارانہ اور سیاسی فضاء دونوں ہی کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس احتجاج کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ تمام تر ہتھکنڈے اور حربے اختیار کرنے کے باوجود زہر افشانی کرنے والی طاقتیں اپنے عزائم اور منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکیں اور اتحاد و یکجہتی کی جس فضاء کو کچھ برسوں سے مکدر کیا جا رہا تھا ان کو ناکام بنادیا گیا ہے ۔ طلباء نے اتحاد و یکجہتی کا جو پیام دیا ہے اور انسانیت کو جو فروغ دیا ہے وہ اس احتجاج کا حاصل کہا جاسکتا ہے ۔
بحری جہازوں پر حملے بند ہوں
ایران اور امریکہ کے مابین جاری فضائی حملوں کے دوران آبنائے ہرمز اور دیگر بحری گذرگاہوں سے گذرنے والے جہازوں پر حملوں کے واقعات باعث تشویش ہوگئے ہیں ۔ مسلسل یہ حملے ہو رہے ہیں اور ان میں عملہ کے ارکان کی اموات ہو رہی ہیں ۔ خاص طور پر ہندوستانیوں کی اموات دوسرے ممالک کے عملہ کے ارکان سے زیادہ ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کے نتیجہ میں سپلائی چین پر اثرات مرتب ہونے کے اندیشے لاحق ہوسکتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بحران کی کیفیت بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ امریکہ ہو یا ایران ہو یا پھر اقوام متحدہ ہو سبھی کو اس مسئلہ کی سنگینی اور حساسیت کا اندازہ کرتے ہوئے بحری گذرگاہوں کو محفوظ بنانا چاہئے ۔ بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات کا تدارک کیا جانا چاہئے اور عملہ کے ارکان کی زندگیوں کا تحفظ کرنا چاہئے ۔ اس معاملے میں تاخیر سے سبھی فریقین اور ذمہ داروں کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔