ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے رپورٹ کی طلبی
امپھال: منی پور میں احتجاج کے دوران طلبہ پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کا ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے سخت نوٹس لیا ہے اور اس حوالہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ میڈیاکے مطابق، حال ہی میں طالب علموں کی ہلاکت کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے مبینہ استعمال پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے درمیان منی پور ہیومن رائٹس کمیشن نے امپھال کے مغربی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے اور پوچھا ہے کہ امپھال میں مارچ نکالنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے بے تحاشا استعمال کا حکم کس نے دیا؟منی پور انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس اتپالیندو بیکاس ساہا (ریٹائرڈ) نے کمشنر (ہوم) سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ کو یا اس سے پہلے زخمی طلبہ کو کتنا عبوری معاوضہ دیا جا سکتا ہے؟ جسٹس ساہا نے چہارشنبہ کو تین ہاسپٹلس کا دورہ کیا جہاں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے نو طالب علم زیر علاج ہیں۔ایم ایچ آر سی کے ذرائع نے بتایا کہ کمیشن نے سنگجامای اوکرام لیکائی کے ننگتھوجام جیت سنگھ اور آسام کے شیو ساگر کے مکل فوکون کی دو شکایات کی بنیاد پر کارروائی شروع کی، جن میں پرامن احتجاج کے دوران مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کے مبینہ غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔