طیارہ حادثہ: امریکی اہلکار ایف اے اے کو’درست‘ کرنے پُرعزم

   

نیویارک: امریکی ایئرلائنز کے علاقائی طیارے اور ایک آرمی ہیلی کاپٹر کے درمیان تباہ کن تصادم میں 67 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی ٹرانسپورٹیشن سکریٹری شان ڈفی نے جمعرات کو کہا کہ وہ جلد ہی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) میں اصلاحات کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔ڈفی نے ایکس پر کہا کہ میں ایف اے اے میں اصلاحات کرنے کا ایک ابتدائی منصوبہ تیار کرنے پر کام کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ یہ بہت جلد سامنے آ جائے گا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ہوا بازی کی حفاظت کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایف اے اے میں تنوع کی کوششوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ہوابازی کے ایک سابق سینئر اہلکار کو ایف اے اے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا تھا۔ بیس سال سے زائد عرصے میں ہونے والے امریکی فضائی حادثہ کے صرف ایک دن بعد انہوں نے یہ بیان دیا۔یہ اعلان امریکہ میں طیارہ حادثے کے بعد سامنے آیا۔ امریکی ایئرلائنز کا ایک علاقائی مسافر طیارہ امریکی فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب دریائے پوٹومیک میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ایف اے اے میں 20 سال سے زائد عرصے تک میں کام کرنے والے اور امریکی فضائیہ کے ایک تجربہ کار عہدیدار کرس روشیلو پہلے نیشنل بزنس ایوی ایشن ایسوسی ایشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ سینیٹ کی کامرس کمیٹی کے وکیل لیام میک کینا کو بھی ایف اے اے میں چیف کونسل نامزد کیا گیا ہے۔