عام انتخابات کے نتائج کا تلنگانہ کی سیاست پر بھی اثر ہوسکتا ہے

   

مودی اقتدار کی صورت میںتلنگانہ میں بھی مہاراشٹرا جیسے سیاسی کھیل کے اندیشے
حیدرآباد۔16اپریل(سیاست نیوز) ہندوستان کے عام انتخابات کے نتائج تلنگانہ کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے! ملک میں این ڈی اے کو تیسری مرتبہ اقتدار حاصل ہونے پر حکومت تلنگانہ باقی رہے گی! ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد کہا جارہا تھا کہ تلنگانہ میں کانگریس کا موقف انتہائی مستحکم ہوچکا ہے اسی لئے اپوزیشن بھارت راشٹرسمیتی کے 25 سے زائد ارکان اسمبلی کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے لیکن حکومت کی تشکیل کے 4 ماہ بعد بھی محض 3ارکان اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے اور بی جے پی کے سینیئر قائد و سابق رکن پارلیمنٹ اے پی جتیندر ریڈی کے علاوہ کسی اور نے کانگریس میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے بلکہ ریاستی حکومت کے مستقبل کے متعلق اب قیاس آرائیاں تیز ہونے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ اگر مودی تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنتے ہیں تو حکومت تلنگانہ کا بھی حشر مہاراشٹرا کی طرح کردیا جائیگا اور تلنگانہ میں بی جے پی آپریشن آکرش کے ذریعہ اقتدار کی تبدیلی کرسکتی ہے۔ حکومت کے مستقبل کے متعلق قیاس آرائیوں کے تیز ہونے کے بعد ہی بی آر ایس کے وہ ارکان اسمبلی جو کانگریس سے رابطہ میں تھے نے خاموشی اختیار کرلی اور انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کڈیم سری ہری‘ ڈی ناگیندر‘ ٹی وینکٹ راؤ نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے جبکہ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور ان کی دختر و مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد جی وجیہ لکشمی بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکی ہیں ان کے علاوہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سینیئر قائد جتیندر ریڈی نے بھی کانگریس میں شمولیت اختیارکرلی ہے اور اب کانگریس میں کوئی اپوزیشن لیڈر شامل ہونے آمادہ نہیں ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار ملنے کے بعد کہا جار ہاتھا کہ کانگریس کو اقتدار اور عوام میں کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ کے نتیجہ میں کانگریس کو تلنگانہ سے 10 سے زائد لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی لیکن اب جو صورتحال پیداہو رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ کانگریس کیلئے لوک سبھا انتخابات میں 10 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ بی آر ایس ارکان اسمبلی جو کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے وہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔ ان ارکان اسمبلی کا کہناہے کہ اگر وہ فوری کوئی فیصلہ کرکے کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو ان کا سیاسی مستقبل تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے وہ نہیں چاہتے کہ فوری سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کرنے فیصلہ کیا جائے۔ مرکز میں انڈیا اتحاد کو اقتدار نہ ملنے پر تلنگانہ پر اس کے منفی اثرات کے خدشات پیدا ہونے لگے ہیں ۔3