سری نگر: وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران صدیوں سے استعمال کی جانی والی روایتی کانگڑی لوگوں کے لئے گرمی کرنے کا موثر آلہ ہی نہیں بلکہ گھروں کی آرائش و زیبائش کا بھی ایک بہترین سامان بن گئی ہے ۔ وادی کشمیر کے کاریگروں نے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ کانگڑیاں بنانے کے اپنے فن کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں اب کانگڑیوں کو گرمی کے لئے استعمال کئے جانے والے آلات تک محدود رکھنے پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اب وہ مختلف ڈیزائنوں کی کانگڑیاں بنا رہے ہیں جنہیں لوگ شوق سے خرید کر اپنے گھروں کی زینت بڑھا رہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں گرمی کے لئے مختلف قسموں کے الیکٹرانک یا گیس پر چلنے والے آلات کی دستابی کے باجود کانگڑی کا استعمال ہر گھر میں کیا جاتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی یہ اطراف و اکناف کے بازاروں میں نمودار ہوجاتی ہیں۔ وسطی کشمیر کے چرار شریف سے تعلق رکھنے والے علی محمد ڈار نامی ایک کاریگر نے چار ایسی کانگڑیاں تیار کی ہیں جو نہ صرف انتہائی دلکش ہیں بلکہ اپنی نوعیت کی پہلی تخلیقات ہیں۔ ان کانگڑیوں کو دیکھ کر جہاں کاریگر کے اس فن سے دلچسپی کا اندازہ لگایاجاتا ہے وہیں روز گار کے لئے اس صنعت کی وسعت بھی سامنے آجاتی ہے ۔ موصوف کاریگر نے یو این آئی کو بتایا کہ میں نے اس سال چار مختلف کانگڑیاں تیار کی ہیں جو اپنی نوعیت کی پہلی کانگڑیاں ہیں اس سائز اور اس ڈیزائن کی کانگڑیاں وادی میں پہلی بار بنائی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ان کو میں نے سردی سے بچنے کے لئے استعمال کرنے کے لئے نہیں بنایا ہے بلکہ یہ گھروں میں آرائش و زیبائش کے لئے رکھی جا سکتی ہیں’۔
ان کا کہنا ہے : ‘ان سے جو سب سے بڑی کانگڑی ہے اس کو تیار کرنے میں مجھے 20 دن لگ گئے ، اس سے جو چھوٹی ہے اس کو 10 دنوں میں تیار کیا اور جو اس سے دو چھوٹی کانگڑیاں ہیں ان کو بنانے میں 8 اور 2 دن لگ گئے ‘۔
ان کانگڑیوں کی ریٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر علی محمد نے کہا: ‘یہ کانگڑیاں اس فن سے وابستہ میرے شوق کا نتیجہ ہے ان کو تیار کرنے کے لئے میں نے اپنے تمام تر صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لایا ہے ‘۔