علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن جدہ کا سرسید مشن کے جذبے کو زندہ کرنے پر زور

   


جدہ ۔ 12 ۔ دسمبر : ( پریس نوٹ ) : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن جدہ نے جمعہ کو اپنے ادارے کے بانی سرسید احمد خاں کا یوم پیدائش روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا ، جس میں تقریبا 400 سابق طلباء اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی ۔ تقریب کا آغاز جناب فہد زنجانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ سینئیر ترین علیگ ہونے کی وجہ سے جناب ارشد سعید کو تقریب کی صدارت کے لیے نامزد کیا گیا ۔ اپنی رپورٹ میں اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری جناب پرنس ضیا الحسن مفتی نے گزشتہ سال کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے مغربی خطے کے علی گڑھ برادری کا سماجی کاموں میں تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا ۔ اسوسی ایشن کے صدر جناب عتیق صدیقی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور سرسید کے وژن اور ان کی قربانیوں کو یاد کیا ۔ 1857 کی بغاوت سید احمد کی زندگی کے اہم موڑ میں سے ایک تھی ۔ انہوں نے واضح طور پر مسلمانوں کے لیے انگریزی زبان اور جدید علوم میں مہارت حاصل کرنے کی ناگزیر ضرورت کا اندازہ لگایا ۔ لہذا انہوں نے مشنری جوش کے ساتھ ایک محمڈن اینگلو اورینٹل ( ایم اے او ) کالج قائم کرنے کے لیے کام کیا جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو ) بن گیا ۔ جناب عتیق نے بھی خطاب کیا ۔ مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر پروفیسر جناب فیضان مصطفی سابق وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی آف لاء ، حیدرآباد تھے ۔ انہوں نے سرسید کے وژن کی تعریف کی جنہوں نے پسماندہ مسلم کمیونٹی کو با اختیار بنانے میں تعلیم کے کردار کو تسلیم کیا ۔ انہوں نے ایک جدید اور ترقی پسند ادارہ ایم اے او کالج فراہم کیا کیوں کہ مسلمان اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنے کے لیے روا دار نہیں تھے ۔ جناب فیضان مصطفی نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی شہریوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے اور اقلیتوں کی حیثیت سے انہیں آئین میں دی گئی مراعات اور آزادیوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ وہ اپنی زبان ، مذہب اور ثقافت کو محفوظ رکھیں اور وہ اس کے لیے تعلیمی ادارے قائم اور ان کا نظم و نسق کرسکیں ۔ ایم اے او کالج انہی اصولوں پر قائم کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بعد میں اے ایم یو کی تشکیل ہوئی ۔ انہوں نے سرسید کے کردار پر روشنی ڈالی ۔ جنہوں نے ایم اے او کالج کے لیے گورننس کا ایک انتہائی موثر اور شفاف نظام فراہم کیا جو ہمارے مسلم اداروں کے لیے ایک رول ماڈل ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سرسید کا وژن نا مکمل ہے کیوں کہ ہم قرطبہ یا مشرق کا ہاورڈ نہیں بن سکے جیسا کہ انٹونی میکڈونل نے پیش گوئی کی تھی ، لیکن ہمیں امید ہے کہ ’ مستقبل کا علی گڑھ ‘ اسے حاصل کرلے گا ۔ قونصل جنرل شاہد عالم نے اسوسی ایشن جدہ کو قونصلیٹ ٹیم کے تمام کمیونٹی کے کاموں میں ہمیشہ تعاون کرنے پر سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ سرسید ایک ماہر تعلیم ، سماجی مصلح ، جدید مفکر تھے اور آج ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم کمیونٹی اور ملک کو با اختیار بنانے اور انسانیت کی خدمت کرنے کے ان کے جذبے پر کام کررہے ہیں ۔ روایت کے مطابق ایگزیکٹیو کمیٹی نے معززین کو اسوسی ایشن کی جانب سے یادگاری مومنٹوز پیش کئے ۔ اسوسی ایشن کے مشیر اور سابق صدر جناب نور الدین خان نے بھی مہمانوں میں تحفے تقسیم کئے ۔ مہمان خصوصی کی طرف سے ’ علیگ برادری سے مربوط کرنے والی ‘ ( Connecting the Aligs ) ایک ڈائرکٹری کے ساتھ سووینر کا اجراء کیا گیا ۔ جناب عقیل جمیل نے اپنی ڈائرکٹری ٹیم کا تعارف کرایا جو ربنواز خان ، نئیر ممتاز ، پرنس ضیا الحسن ، اطہر رسول اور غفران نشتر پر مشتمل ہے ۔ ربنواز خان کی طرف سے تیار کردہ ایک سلائیڈ شو دکھایا گیا ۔ جس میں AMUOBA کی گزشتہ سال انجام پذیر سرگرمیوں اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی گئی ۔ جس میں سماجی ، مذہبی ، رفاہی اور تعلیمی منصوبوں کے انعقاد میں ان کی فعال شمولیت کو دکھایا گیا ۔ سرسید کی جدید تعلیم کے موضوع پر ایک خاکہ پیش کیا گیا ۔ اس ڈرامے کا تصور اور تحریر اسوسی ایشن کے صدر جناب عتیق صدیقی کے تھے ، جس کی ہدایت کاری محترمہ لبینہ عتیق نے کی اور چھوٹے بچوں نے پرفارم کیا ۔ جن میں آیان ، حامد ، ابراہیم ، یاسرہ ، مدیحہ ، نویرہ ، منال شامل ہیں ۔ سامعین میں جوش و خروش دیکھا گیا جب عاصم ذیشان کی طرف سے اے ایم یو اور سرسید کے موضوعات پر ایک دلکش اور ڈیجیٹل کوئز مقابلہ منعقد کیا گیا ۔ جیتنے والوں کو تحفوں سے نوازا گیا ۔ نیئر ممتاز ، غفران نشتر اور اطہر رسول کی جانب سے ریفل ڈرا کا انعقاد کیا گیا جس میں جیتنے والے خوش نصیبوں میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔ شکریہ کی تجویز نائب صدر محمد سراج نے پیش کی ۔ نظامت جنرل سکریٹری جناب پرنس ضیا الحسن مفتی نے اردو میں کی ۔ جناب عتیق صدیقی اور ان کی ٹیم نے یونیورسٹی کا ’ ترانہ ‘ خوبصورت انداز میں پیش کیا ۔ پروگرام کا اختتام پر تکلف عشائیہ کے ساتھ ہوا ۔۔