مرسل: محمدواحدخان
انسان کو اللہ تعالی کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ ساری مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھے اور عمدہ سلوک کرے۔ مخلوق کے مخلوق پر جو حقوق ہیں، شریعت نے اُن سے آگاہ فرما دیا ہے۔ پھر یہ کہ انسان کے ذمہ نہ صرف مخلوق کے حقوق ہیں، بلکہ اللہ رب العزت کے حقوق بھی ہیں۔ نیک عمل اور برے عمل، دونوں کی دو قسمیں ہیں۔ اول وہ اعمال کہ جو عمل کرتے ہی ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو کرلینے کے بعد انسان عذاب یا ثواب کا مستحق ہو جاتا ہے۔ دوسرے وہ اعمال کہ جو وجود میں آتے ہی ختم نہیں ہوجاتے، بلکہ اُن کا اثر مسلسل جاری رہتا ہے اور اس عمل کو اختیار کرنے والا برابر زیادہ سے زیادہ ثواب یا عذاب کا مستحق ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً کسی نے کنواں کھدوادیا یا سرائے تعمیر کروادی یا اور کوئی ایسا کام کیا، جس کا نفع اور اثر جاری ہے، وہ شخص انتقال بھی کرجائے، تب بھی اس کا ثواب جاری رہے گا۔ اس کے برعکس کسی نے کوئی گناہ کا کام کیا، جس کی وجہ سے گناہ برابر جاری ہے۔ یہ شخص مر بھی جائے، تب بھی اس کے نامۂ اعمال میں گناہ بڑھتا ہی رہے گا اور زیادہ سے زیادہ عذاب کا مستحق ہوتا رہے گا۔ حضور نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ دعوت حق کی راہ میں جس قدر مجھ کو اذیت اور تکلیف میں مبتلاء کیا گیا، کسی نبی اور رسول کو نہیں کیا گیا۔ پس جب سرداردوعالم ﷺ نے ان مصائب اور مشقتوں کو تحمل اور برد باری کے ساتھ برداشت کیا تو ہم بھی ان کے پیرو ہیں ، ہمیں بھی ان مصائب سے پریشان نہیں ہونا چاہئے ۔ ہم فریضہ تبلیغ کو لے کر اس طرح کھڑے ہوں کہ ہم میں قوت ایمانی بڑھے اور اسلامی جذبات ابھریں۔ ہم خدا اور رسول کو پہچانیں اور احکام خداوندی کے سامنے سرنگوں ہوں اور اس کیلئے ہمیں وہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے، جو سید الانبیاء ﷺنے عرب کی اصلاح کے لئے اختیار فرمایا تھا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’بے شک تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) بہترین نمونہ ہیں‘‘۔