عوامی خزانہ کانگریس کی جاگیر نہیں: وزیر اعلیٰ ہریانہ

,

   

سونیا گاندھی کا دوبارہ کانگریس صدر بننا ’کھودا پہاڑ نکلا چوہیا‘کے مترادف
سونی پت (ہریانہ) 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہریانہ کے چیف منسٹر منوہر لال کھتر نے سونیا گاندھی کی کانگریس کے صدر کی حیثیت سے واپسی کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہاکہ کانگریس کو اپنے صدر کے انتخاب کے لئے تین ماہ لگ گئے لیکن سونیا گاندھی کے صدر منتخب کئے جانے کے بعد ہندی کا یہ محاورہ ان پر صادق آتا ہے کہ ’کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا‘۔ اس محاورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت محنت کرنے کے بعد معمولی فائدہ حاصل ہوا۔ کانگریس نے جوابی چوٹ لگانے میں تاخیر نہیں کی۔ اس نے کہاکہ ہریانہ کے چیف منسٹر کے بیان سے بی جے پی کی ’’مخالف خواتین‘ کردار کا اظہار ہوتا ہے۔ کانگریس نے بی جے پی سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس پارٹی نے اپنے ٹوئٹ میں کہاکہ چیف منسٹر ہریانہ کا بیان نامناسب ہے۔ وہ نہایت ہی نچلی سطح تک گرچکے ہیں اور اس کے علاوہ اس سے بی جے پی کی خواتین مخالف ذہنیت بھی آشکار ہوتی ہے۔ کھتر نے کھارکھوڈا میں ایک انتخابی جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس اور جے جے پی پر سخت تنقید کی اور عوام سے کہاکہ وہ خاندانوں پر مبنی ان جماعتوں کو ان کے گھر کا راستہ دکھائیں۔ کھتر نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس کے سابق ریاستی صدر اشوک تنوار نے یہ الزام لگاکر پارٹی چھوڑ دی کہ کانگریس میں ٹکٹوں کی فروخت عمل میں آرہی ہے۔ کھتر نے کانگریس کے انتخابی منشور پر بھی نکتہ چینی کی۔ اُنھوں نے کانگریس کے عوام کے لئے معلنہ بعض مفت اسکیمات کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس کے لئے 1.20 لاکھ کروڑ کی ضرورت پڑے گی۔ یہ وعدے کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ عوام سے ایسے وعدے کررہے ہیں گویا عوامی خزانہ ان کے باپ کا مال ہے۔