ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ، سی ای او کی من مانی
حیدرآباد۔12۔ڈسمبر(سیاست نیوز) وقف بورڈ میں مستقل چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے متعلق عدالت کی ہدایات کے باوجود قوانین اوقاف کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوبات روانہ کرنے والے عہدیداربورڈ کی منظوری کے بغیر اوقافی اداروں کی کمیٹیوں کو منظور کررہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں حکومت کے عہدیداروں کی من مانی وقف بورڈ کی اہمیت کو گھٹانے لگی ہے اور اب وقف قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے اواقافی اداروں کی انتظامی کمیٹیوں کو منظوری دی جار ہی ہے جو کہ مکمل طو ر پر غیر قانونی عمل ہے کیونکہ وقف بورڈ کی منظوری کے بغیر کسی بھی اوقافی ادارہ کی کمیٹی یا تولیت کو بورڈ کی منظوری کے بغیر احکامات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے وہ عہدیدار جو وقف بورڈ کو قوانین کا درس دے رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وقف بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات وقف قوانین کے خلاف ہیں وہی عہدیدارچیف اکزیکیٹیو آفیسر سے ایسے احکامات جاری کروارہے ہیں جو کہ وقف ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہیں اور انہیں عدالت میں چیالنج کیا جاسکتا ہے کیونکہ جو احکامات جاری کئے جا رہے ہیں انہیں بورڈ کے اجلاس میں منظوری نہیں دی گئی ہے۔ ضلع محبوب نگر میں موجود اوقافی اداروں کی انتظامی کمیٹیوں کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ عہدیدار وقف قوانین سے تجاوز کرتے ہوئے قانون پر اپنی بالا دستی ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ حکومت کی بدنامی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبوب نگر کے اوقافی ادارو ںکی کمیٹیوں کی منظوری کے سلسلہ میں عہدیداروں سے دریافت کرنے پر یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق ان کمیٹیوں کو منظوری فراہمی کی گئی ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے قانون اوقاف کی خلاف ورزی کی کوئی ہدایت نہیں دی جاسکتی۔ حکومت کی جانب سے اگر کسی ادارہ کی کمیٹی کی منظوری کے سلسلہ میں سفارش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بھی وقف بورڈ بغیر بورڈ کے اجلاس میں منظوری کمیٹی کی تشکیل کا مجاز نہیں ہے کیونکہ قوانین اوقاف اس بات کی اجازت نہیں دیتے لیکن عہدیداروں کی جانب سے قوانین اوقاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بورڈ کی منظوری کے بغیر ان اداروں کی کمیٹیوں کی تشکیل کے احکام جاری کئے جانے لگے ہیں جو راست وقف بورڈ کے تحت ہیں ۔م