پٹنہ: نیشنل کمیشن آف پروٹیکشن فار چائلڈ رائٹس نے بہار حکومت کو نوٹس بھیج کر ایک ہفتے کے اندر اس سے جواب طلب کیا ہے کہ ہندوؤں کے بڑے تہواروں پر سرکاری اسکولوں میں چھٹیاں کیوں اگلے سال سے ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نوٹس میں چیئرمین پریانک کاننگو نے کہا ہیکہ کمیشن کو بہار کے محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے بارے میں شکایت موصول ہوئی ہے۔ 2024 کے تازہ اعلامیہ کے مطابق محکمہ تعلیم نے ہرتالیکا تیج، جنم اسٹمی، مہاشوراتری، رام نومی، سرسوتی پوجا، راکھی، تیج اور جیتیہ کی چھٹیوں کو منسوخ کردیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلامیہ نے بہت سے ہندو تہواروں کی تعطیلات کو ختم کر دیا اوردوسری جانب مسلمانوں کے تہواروں کی تعطیلات میں اضافہ کردیا۔ محکمہ تعلیم نے طلباء کیلئے 220 دن کا مطالعہ لازمی قراردیا ہے۔ تاہم عید الفطر، عیدالاضحی اور محرم کی چھٹیاں دو دن سے بڑھا کر تین دن کر دی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ 2024 کیلئے گرمیوں کی تعطیلات کو 20 دن سے بڑھا کر 30 دن کردیا گیا ہے۔