عیسائی طبقہ کے 154 نوجوانوں کو ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم کے تحت کار کی فراہمی

   


1748 افراد کو 19 کروڑ کا سبسیڈی لون، چرچس کیلئے 32.63 کروڑ کی اجرائی

حیدرآباد۔/25 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے عیسائی اقلیت کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے مختلف اقدامات کا دعویٰ کیا ہے۔ کرسمس کو سرکاری سطح پر منانے کے علاوہ 8 لاکھ سے زائد خاندانوں میں ملبوسات کے تحائف کی تقسیم، کرسچن بھون کی حیدرآباد میں تعمیر اور عیسائی طبقہ کے بیروزگار نوجوانوں کو ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم کے تحت کاروں کی فراہمی کی تفصیلات جاری کی گئیں۔ حکومت نے کرسمس کے موقع پر عیسائی اقلیت کی فلاح و بہبود پر تفصیلی نوٹ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہر سال کرسمس کے موقع پر 3 لاکھ سے زائد غریب کرسچن خاندانوں میں ملبوسات کے تحائف کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ ریاست میں تمام چرچس میں سرکاری سطح پر کرسمس تقاریب کا اہتمام کیا گیا جس کے ذریعہ حکومت نے اپنے سیکولرازم کا ثبوت دیا ہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے تمام مذاہب کے عید اور تہوار منائے جاتے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تمام طبقات کی یکساں ترقی کے اقدامات کئے ہیں۔ ریاست بھر میں 8 لاکھ 35 ہزار کرسچن خاندانوں میں حکومت کی جانب سے ملبوسات تقسیم کئے گئے جن میں 2.80 لاکھ مرد اور 2.77 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ 2 لاکھ 77 ہزار 500 بچوں کیلئے بھی ملبوسات تقسیم کئے گئے۔ اوپل کے علاقہ میں کرسچن بھون کی تعمیر کیلئے 2 ایکر اراضی مختص کی گئی جہاں 10 کروڑ سے کرسچن بھون تعمیر کیا جائے گا۔ کرسچن بھون کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا گیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں چرچس کی تعمیر کیلئے سخت شرائط تھیں حکومت نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد قواعد میں نرمی پیدا کی ہے۔ مجالس مقامی کی لازمی اجازت کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں کئی نئے چرچس تعمیر کئے گئے۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں 411 چرچس کیلئے 32.63 کروڑ منظور کئے گئے۔ عیسائی طبقہ کے بیروزگار نوجوانوں کو خود مکتفی بنانے کیلئے کرسچن میناریٹی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے جس کے تحت 60 فیصد سبسیڈی کے ذریعہ کار فراہم کی جاتی ہے۔ کار کو ٹراویلس یا کیاب کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 154 عیسائی نوجوانوں کو 6.90 کروڑ کی سبسیڈی فراہم کی گئی۔ بینک سے مربوط قرض اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے تک سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے اور تاحال 1748 افراد کو 19 کروڑ سبسیڈی فراہم کی گئی۔ مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے کیلئے عیسائی امیدواروں کو کوچنگ فراہم کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ اوورسیز اسکالر شپ کی فراہمی جاری ہے۔ صنعتوں کے قیام کیلئے ٹی ایس پرائم اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ سیلف فینانسنگ کورسیس کیلئے حکومت فنڈز جاری کررہی ہے۔ر