سی پی آئی حیدرآباد کی گول میز کانفرنس۔ عوامی تحریک شروع کرنے کا انتباہ
حیدرآباد۔5نومبر(سیاست نیوز) شہر کے غریب او رمعاشی پسماندہ عوام میں اراضی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام سٹی دفتر حمایت نگر پر گول میز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس میںریٹائرڈ جج تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس چندریا ‘ ریٹائرڈ جج چندرا کمار ‘ صدر انڈین اسوسی ایشن وکلا بی پربھاکر کے علاوہ سرکردہ سیاسی ‘ سماجی تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی اور بھودان اراضی بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا۔سی پی آئی گریٹر حیدرآباد سکریٹری ای ٹی نرسمہا نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 10 برس میں بڑے کارپوریٹ خاندانوں کو دس ہزار ایکڑ سے اراضی دی گئی ۔حالانکہ اس اراضی پر غریب عوام کا حق ہے جو بے گھر یاپھر کرایہ کے مکانات میںزندگی بسر کرنے مجبور ہیں۔ انہوںبی آر ایس کی سابقہ حکومت پر بھودان اراضی سے کھلواڑ او رکارپوریٹ اداروں کے حوالے کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ تلنگانہ میںحکومت کی تبدیلی سے امید پیدا ہوئی تھی کہ ریونٹ ریڈی حکومت تلنگانہ میں بھودان بورڈ قائم کرکے کارپوریٹ اداروں سے اراضی واپس حاصل کریگی اور یہ اراضی غریب عوام میںتقسیم کریگی مگر ایک سال کاعرصہ گذر گیا حکومت نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ کوئی ایسا بورڈ تشکیل دیا ہے۔ ای ٹی نرسمہا نے کہاکہ سی پی آئی بھودان اراضی کی بازیابی اور غریب عوام میں تقسیم کیلئے مسلسل تحریک چلارہی ہے اور اگر موجودہ حکومت اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیںکرتی تو ہم آئندہ دنوں ایک عوامی تحریک شروع کریں گے۔جسٹس چندریا نے کہاکہ ہزاروں ایکڑ بھودان اراضی تعلق دار‘ مقطعہ دار‘ دیشمکھ ‘ پٹیلوں کے قبضہ میں ہے ۔ شہر اور مضافات میں ہزاروں ایکڑ اراضی موجودہے ۔ انہوں نے پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور عدم انصاف پر عوام کے ساتھ انصاف کیلئے پرامن احتجاج ضروری ہے۔ انہوں نے عوامی حقوق کیلئے پرامن احتجاج کی وہ حمایت کرتے ہیں ۔ دیگر شرکاء نے بھی بھودان اراضی کی غریب عوام میںتقسیم تک جدوجہد کی حمایت کااعلان کیاہے۔انقلابی گانوں پر گول میز کانفرنس کا آغاز او راختتام عمل میںآیا۔