نیویارک : اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ میں ہونے والی تباہی سے جو ملبہ پھیلا ہوا ہے اسے سمیٹنے میں 21سال لگ سکتے ہیں ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجہ میں غزہ کے اندر تباہ ہونے والی عمارتوں اور دیگر انفرا اسٹرکچر کے ملبے کو صاف کرنے میں 21سال کا عرصہ لگ سکتا ہے اور 12 ارب ڈالر کی رقم خرچ ہوسکتی ہے ۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج غزہ میںجنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہی ہے اور گزشتہ روز رفح میں ملبہ صاف کرتے لوگوں پر اسرائیلی کواڈ کاپٹر ( ڈرون ) نے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک فلسطینی شہید اور 4 زخمی ہوگئے ۔ اسرائیلی بمباری سے تباہ شدہ عمارتو ں سے فلسطینی شہدا کی نعشوں کے ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ 10ہزار سے زائد نعشیں ملبہ کے نیچے دبے ہونے کا خدشتہ ظاہر کیا ہے ۔ ان معاملات کو دیکھنے والے ذریعہ نے رائٹرز کو بتایا کہ مصر نے کچھ انجنیئرنگ وہیکلز سڑکوں کی مرمت کیلئے بارڈر کے آس پاس بھیجی ہے لیکن ملبہ اٹھانے کا کام اور انفراسٹرکچر کو بحال کرنے کا کام بہت طویل وقت چاہے گا اور ابھی اس کی شروعات نہیں ہوئی ۔یاد رہے کہ ابودلفہ کی طرح کے ہزاروں لوگ بے گورو کفن نعشیں تلاش کرنے کیلئے غزہ کے مختلف علاقوں میں مصروف ہیں ۔