غزہ کا انسانی بحران قحط میں تبدیل ہو سکتا ہے: یو این او

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے’ غزہ’ میں جاری انسانی بحران تو قحط میں تبدیل ہو سکتا ہے۔روم میں واقع ‘اقوام متحدہ تنظیم’ نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ” ڈبلیو ایف پی خبردار کرتا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں جاری انسانی بحران قحط میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ موسم سرما قریب آتے رہا ہے اور اس دوران غزہ پٹی میں داخل ہونے والی خوراک اور دیگر ضروری انسانی امداد میں کمی کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔بیان میں اقوام متحدہ کی غذائی تحفظ درجہ بندی ادارے ‘آئی پی سی’ کی رواں مہینے کے آغاز میں جاری رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نومبر تک غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی شدید نوعیت کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ غزہ کے شمالی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، اور اگر مقامی حالات میں بہتری نہ آئی تو قحط سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ “غزہ میں انسانی امداد پر پابندیاں انتہائی سخت ہیں۔ اکتوبر کے دوران صرف 5 ہزار میٹرک ٹن خوراک غزہ پہنچائی جا سکی ہے اور یہ مقدار ڈبلیو ایف پی کی امداد پر انحصار کرنے والے 1.1 ملین افراد کے لیے درکار بنیادی غذائی امداد کا صرف 20 فیصد ہے۔