غزہ کی 12 فی صد آبادی شہید یا لاپتہ ہو چکی ہے :فلسطینی سفیر

   

نئی دہلی، 9 جون (یو این آئی) آل انڈیا مسلم انٹلیکچوئل سوسائٹی کے ایک وفد نے نئی دہلی میں فلسطینی سفیر عبداللہ ایم ابو شاوَش سے ملاقات کی۔ اس نشست میں غزہ، مغربی کنارے ، بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیر عبداللہ ابو شاوَش نے وفد کو زمین پر جاری بدترین انسانی بحران پر بریفنگ دی۔ جب ای آئی ایم آئی ایس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عمار انیس نے ان حالیہ رپورٹوں کا حوالہ دیا، جن کے مطابق غزہ کی 10 فی صد آبادی لاپتہ ہو چکی ہے تو سفیر نے ان اعداد و شمار کی تصحیح کرکے ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ تعداد 10 فی صد تک محدود نہیں رہی۔ موجودہ زمینی حقائق کے مطابق غزہ کی کل آبادی کا حیران کن طور پر 12 فی صد حصہ یا تو جامِ شہادت نوش کر چکا ہے یا پھر لاپتہ ہے ۔ انہوں نے غزہ میں انتہائی کرب ناک حالات پر بتایا کہ عام شہری اس وقت مکمل بے یار و مددگار ہیں۔ پورا سول انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے ، بجلی کی سہولت ناپید ہے اور لوگ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ طبی سہولیات کے مکمل خاتمے کے باعث اب تک 11,000 سے زائد بڑے اور ضروری آپریشن ملتوی یا منسوخ ہو چکے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ عالمی برادری اس صورتحال سے کسی صورت نظریں نہیں چرا سکتی: انھوں نے کہا کہ دنیا کو کسی بھی قیمت پر فلسطینی کاز کو پسِ منظر میں دھکیلنے یا فراموش کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔ ہمیں وہاں کی صورتحال پر مسلسل اور گہری نظر رکھنی ہوگی۔تاریخی تناظر پر گفتگو کرتے ہوئے سفیرِ فلسطین نے ہندوستان اور فلسطین کے درمیان نوآبادیاتی جبر کے خلاف استقامت اور طویل جدوجہد کی مشترکہ تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو حقِ آزادی ہندوستان نے 1947 میں حاصل کیا تھا، فلسطینی عوام آج 2026 میں بھی اسی بنیادی حق کیلئے برسرِپیکار ہیں۔انہوں نے ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ہندوستان کی دیرینہ اور تاریخی سفارتی حمایت کی تعریف کی۔ اس وفد میں سائنس داں پروفیسر عباس علی مہدی، ڈاکٹر عمار انیس نگرامی اور احمد نگرامی شامل تھے ۔وفد نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور فلسطین میں امن، انصاف اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کے حق میں بیداری پیدا کرتے رہنے کے عزم کو دہرایا۔