مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری
حضور سیدنا شیخ عبدالقادر محی الدین الجیلانیؓ نے بغداد کو اپنے قدوم میمنت سے ایسا شرف بخشا،جو صبح قیامت تک سرخیل اولیاء و سردارِ قطباء کی حیثیت سے جانی ومانی جاتی رہے گی۔ آپؓ نجیب الطرفین ساداتِ کرام میں سے ہیں ، والد سید ابوصالح کی جانب سے حسنی اور والدہ ام الخیر فاطمہ کی جانب سے حسینی تھے ۔ آپؓ قصبۂ جیلان میں یکم رمضان المبارک ۴۷۰ ھ میں اس دنیا میں تشریف لائے اُس وقت سے ہی آپؓ کی ولایت و قطبیت کے ڈنکے بجنے لگے ۔ مادرِ شکم میں ہی جب والدہ کو چھینک آنے پر وہ الحمد للہ فرمایا کرتیں تو آپؒ یرحمک اللہ فرمایا کرتے ۔ آپؓ کی ابتدائی تعلیم جیلان میں مکمل ہوئی اور پھر طلبِ علم دین و صحبتِ اولیائے کرام کی غرض سے آپؓ بغداد کیلئے روانہ ہوئے۔ وہاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ بزرگانِ دین کی صحبت میں رہنے لگے اور اکتسابِ علم لدنی کا عمل مکمل فرمایا۔ آپؓ سے دریافت کیا گیا کہ آپؓ کو اپنی ولایت کا علم کب ہوا؟ آپؓ نے فرمایا کہ جب میں ۱۰ سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے کیلئے جاتا تو ملائکہ مجھے مدرسہ چھوڑنے کیلئے ساتھ آیا کرتے اور دوسرے طلبہ کو کہا کرتے کہ اللہ کے ولی کو بیٹھنے کیلئے جگہ فراہم کرو۔ سیدنا غوثِ اعظم باجود مقام رفیع کے آپؓ عبادت و ریاضت میں مشغول و مصروف رہا کرتے۔ آپؓکا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ اپنے ہر عضو کو اس کی طاقت کے موافق و مطابق عبادت میں مصروف رہا کرتے ۔ کتاب و سنت کی پیروی میں مطابقت ایسی تھی کہ آپؓ ہرحالت میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے اور حضور قلب کے ساتھ توحید الٰہی میں مشغول رہتے۔ آپؓ اپنے روحانی کمالات، علمی جاہ وجلال، شخصی وجاہت اور سیرت وکردارکی بلندی کے باوجود آپؓ شریعت کے متبع اورسنت مصطفی کریم ﷺ سے متصف تھے۔ آپؓ کے نزدیک شریعت مطہرہ کی پاسداری کا فریضہ سب سے اہم تھا اسیلئے آپؓ نے سب سے پہلے دین کی تجدید و احیاء کیلئے شریعت مطہرہ کو سب پر فوقیت دی اورعوام و خواص کو دین کی حقیقی تعلیمات کی دعوت دی، بدعات وخرافات کا قلع قمع فرمایا، اسلامی معاشرہ میں جو بدعات و خرافات نے جنم لے لیا تھا اسکی جڑیں کاٹ ڈالیں،دین پر سختی سے عمل کرنے کی ترغیب دی۔ آپؓ کی تعلیمات ہمارے لئے بلکہ ساری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہیں۔ہمیں آپؓ کی تعلیمات سے سبق لینا چاہیے کہ ہم وقتِ ضرورت اور تقاضا کی آڑمیں شریعت کو پسِ پشت ڈال دیا کرتے ہیں، انتشار پھیلاتے اور علماء کرام اور شریعت مطہرہ کا مذاق اُڑاتے ہیں ۔یاد رکھیں! شریعت پر استقامت ہی سُنّت کا راستہ ہے،باقی دُنیا کی طلب ہے اسی کی خاطر شریعت سے رُو گردانی کی جاتی ہے،مذکورہ ارشاد پر علما، داعیانِ دین کی توجہِ خاص درکار ہے۔