فرانس میں فتح کا جشن ہنگاموں اور نسل پرستی کی نذر

   

پیرس : فرانس میں، دارالحکومت پیرس سمیت متعدد شہروں میں، فیفا سیمی فائنل میں کامیابی کے جشن انتہا پسند گروپوں کی ہنگامہ آرائیوں کا منظر پیش کرنے لگے۔فرانس ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے، فیفا 2022 عالمی کپ کے فرانس۔ مراقش سیمی فائنل میچ کے بعد مراقشی اور فرانسیسی حامیوں سے بھری پیرس کی معروف شاہراہ ‘شانزیلیزے’ کی طرف جاتے، انتہائی دائیں بازو کے حامی 40 افراد پر مشتمل مسلح گروپ کو حراست میں لے لیا ہے۔پیرس اور اس کے قریبی علاقوں میں ہونے والی ہنگامہ آرائیوں میں کْل115 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس نے، لیون شہر کے بیلیکور اسکوائر میں میچ کا جشن منانے والے افراد اور انتہائی دائیں بازو کے گروپوں کے درمیان، جھگڑے میں مداخلت کر کے 2 انتہا پسندوں سمیت 6 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔فرانس کے اسمبلی ممبر انٹوان لیومنٹ نے ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “نائس میں فاشسٹ نسلیت پرستانہ نعرے لگا کر مراکش ٹیم کے حامیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ نسلیت پرستی جْرم ہے”۔ایک اور اسمبلی ممبر تھامس پورٹیس نے بھی ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ لیون، نائس اور مونٹ پیلیئر میں انتہائی دائیں بازو کے حامی گروپوں کی طرف سے مراقشی حامیوں پر حملے طے شدہ حملے تھے۔