فرقہ وارانہ ہراسانی کا شکار خاندان سے امجد اللہ خالد کی ملاقات

   

مذہبی بنیادوںپر نشانہ بنانے کی مذمت ۔ خاطیوں کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس سے نمائندگی
حیدرآباد 19 جون ( پریس نوٹ ) ترجمان مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خان خالد نے ملکاجگری کے جنا پریہ لیک فرنٹ اپارٹمنٹ کا دورہ کرتے ہوئے اس متاثرہ خاندان سے ملاقات کی جسے فرقہ وارانہ ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور پاکستانی قرار دیا گیا تھا ۔ ایک مسلم لڑکے کو پاکستانی قرار دینے اور غیرقانونی رہائش کا الزام عائد کرنے کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا ۰ یہ واقعہ جواہر نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں جانا پریہ لیک فرنٹ اپارٹمنٹ میںپیش آیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد امجد اللہ خاں خالد ترجمان ایم بی ٹی نے شخصی طور پر اپارٹمنٹ کا دورہ کیا اور انہوں نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ۔ سوشیل میڈیا پر کئی افراد نے امجد اللہ خاں خالد سے اس معاملہ کا نوٹ لینے اور متاثرہ خاندان کو تسلی دینے کی خواہش کی تھی ۔ امجد اللہ خاں خالد نے تقریبا پانچ گھنٹوں کی تلاش کے بعد اس مقام کا پتہ چلایا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ۔ انہوں نے اپارٹمنٹ میںمحترمہ شیخ نسیمہ سے ملاقات کی ۔ اس دوران محترمہ شیخ نسیمہ نے انہیں یہاں کی جانے والی ہراسانی سے واقف کروایا اور الزام عائد کیا کہ اپارٹمنٹ کے مالک اور کچھ دوسرے افراد انہیں روز اول سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے سے ان پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں اور خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ فی الحال وہ اپارٹمنٹ میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم ہیں جبکہ ان کے دو بچے دہلی میں ملازمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کی ایک دوست پراچی کچھ دن ان کے پاس قیام کیلئے آئی تھی ۔ ان کے پاس کچھ اعلی نسل کی بلیاں تھیں جنہیں اپارٹمنٹ کے باہر رکھا گیا تھا ۔ اس بات کو بہانہ بناتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ بعد ازاں امجد اللہ خان نے اے سی پی جواہر نگر اور انسپکٹر پولیس جواہر نگر سے فون پر بات کی اور سارے معاملہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر اس طرح ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو ہر ایم بی ٹی کی جانب سے ممکن قانونی اور اخلاقی مدد کا تیقن دیا ۔