فلسطینیوں کے فدائی حملے بینیٹ حکومت کو لے ڈوبے

   

تل ابیب : اسرائیل کے عبرانی اخبار’’یدیوت احرونوت‘‘ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکومتی اتحاد کے ٹوٹنے کی وجہ گذشتہ مہینوں کے دوران مقبوضہ علاقے کے اندر ہونے والی کارروائیاں ہیں۔اخبار نے کہا ہے کہسیاسی اختلافات پر قابو پانے اور اہم پوائنٹس پر توجہ مرکوز کرنے کے سلسلے میں متحدہ فہرست کے ساتھ نفتالی بینیٹ کی شراکت کے بارے میں نام نہاد ’’دائیں‘‘ بازو کی خاموشی اور حالیہ عرصے کے دوران اسرائیل میں ہونے والے فدائی حملے نفتالی بینیٹ حکومت کوختم کرنے کا باعث بنے۔عبرانی اخبار نے مزید کہا کہ درحقیقت قابض ریاست میں بینیٹ کے دور صدارت میں بڑی کارروائیاں ہوئیںاور اس نے اس اتحاد کے کاغذات کو بکھرا دیا جو مشرق وسطیٰ یں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بالکل مختلف سوچنے والی جماعتوں اور افراد کے درمیان تعاون کے امکان کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا۔عبرانی اخبار کے مطابق اتحاد کا خیال ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین سے متعلق گہرے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ سکتا ہیاور بجٹ، نقل و حمل اور سب سے اہم بات بنجمن نیتن یاہو کو سیاسی زندگی سے الگ کرنا کے لیے اقدامات کرسکتا ہے۔عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ‘‘مشرق وسطیٰ کسی کو بھی اس سے خارج ہونے کی اجازت نہیں دیتا اور مسئلہ فلسطین کسی بھی ایسی حکومت کو پریشان کرتا ہے جو اس کے وجود سے انکاری ہو۔اخبار نے کہا کہحکومت کی تشکیل سے ‘‘دائیں بازو کے ووٹروں’’ کی پوزیشن میں بنیادی تبدیلی آئی جو حکومتی اتحاد میں عرب برادری کی نمائندہ جماعت کی موجودگی کے بارے میں خاموش تھے، لیکن اس دوران مقبوضہ علاقے کے اندر کمانڈو آپریشن ہوئے۔