فلسطین گھٹ کر اب 15 فیصد رہ گیا ، گوگل سے نام غائب

,

   

 محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔21 جولائی۔فلسطین نام کی کوئی مملکت اب دنیا کے نقشہ پر نہیں ہے اور دنیا کے نقشہ سے فلسطین کو مٹا دیا گیا ہے ۔ گوگل میاپ جو کہ دنیا بھر کے تمام ممالک کے نقشہ جات آن لائن دکھاتا ہے اس پر اب کوئی فلسطین نامی ملک باقی نہیں رہا۔ دنیا کو مختلف مصروفیاتمیں الجھاتے ہوئے گوگل نے اپنے نقشہ سے فلسطین کو غائب کردیا لیکن کسی کی اس پر توجہ نہیں گئی اور نئی نسل جو گوگل میاپ پر ممالک تلاش کرتی ہے اسے اب فلسطین نقشہ پر نہیں ملے گا جبکہ 2020تک گوگل میاپ پر اسرائیل کے ساتھ مملکت فلسطین کا نام بھی نقشہ پر ہوا کرتا تھا اور گذشتہ دو برسوں کے دوران دنیا میں ہونے والی اتھل پتھل کے درمیان کسی نے اس پر توجہ نہیں دی کہ فلسطین کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کیلئے کی جانے والی مذموم کوششوں نے ایک اہم سنگ میل طئے کرلیا ہے۔دنیا بھر میں فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والوں کے علاوہ مسئلہ فلسطین سے دلچسپی رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ پر توجہ نہ دیا جانا باعث حیرت ہے ۔’’گوگل میاپ‘‘ ممالک کی تلاش اور ان کے جغرافیائی حدود کا مشاہدہ کرنے کے لئے عصری سہولت ہے لیکن اب جو دنیا کا نقشہ آن لائن دستیاب ہے اس میں فلسطین کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اگر کوئی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اسرائیل کے نقشہ کی جانب لایا جا رہاہے اور اسرائیل میں یروشلم‘ مغربی کنارہ ‘ تل ابیب ‘ غزہ پٹی ‘ حیفہ‘ رملہ‘ کے علاوہ دیگر شہروں کے نام ہیں لیکن فلسطین کا نام حذف کردیا گیا ہے ۔ 1947 سے فلسطینی علاقوں پر غاصب آبادیوں کی جانب سے کئے جانے والے قبضہ جات کا جائزہ لیا جائے تو ابتداء میں 44 فیصد مملکت فلسطین کے طور پر باقی تھی اور 1967 میں فلسطینی مملکت گھٹ کر 22 فیصد رہ گئی تھی اور 2020 کے نقشہ کا مشاہدہ کیا جائے تو فلسطینی مملکت 15 فیصد رہ گئی ہے لیکن اب جو 15 فیصد خطہ اراضی فلسطین کے پاس ہے اسے بھی فلسطین کا نام نہیں دیا جا رہاہے بلکہ اس علاقہ کو مغربی کنارہ کہا جانے لگا ہے۔ گوگل میاپ سے فلسطین کا نام حذف کردیا جانا دراصل نئی نسل کو فلسطین نامی مملکت سے ہی بے خبر کرنے کی کوشش ہے ۔ فلسطین حالانکہ دنیا کے سرکردہ ممالک بالخصوص اقوام متحدہ کے ریکارڈس میں اب بھی ایک ملک ہے لیکن ملک کے نام کو ہی نقشہ سے غائب کردیا جانا اس خطہ پر غاصبانہ قبضہ کی کوشش کرنے والوں کے عزائم کو واضح کرتا ہے۔ عصری سہولتوں کے استعمال کے ذریعہ صیہونی ذہنیت کے خلاف جاری جدوجہد اب بھی جاری ہے اور دنیا بھر میں انسانیت نواز ممالک اور تنظیموں کی جانب سے فلسطینیوں کی آزادی اور ان کی آبادیوں پر ہونے والی مظالم پر آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن اب جبکہ گوگل نے میاپ سے فلسطین کا نام ہیہٹا دیا ہے تو اس کی تاریخ بھی بتدریج تبدیل کردی جائے گی اور اس خطہ کے مظلوم عوام کا کوئی پرسان حال نہیں رہے گا۔ فلسطینی کاز سے دوری اختیار کرنے والے ممالک اور جن ممالک میں فلسطینی کاز کو اب بھی اہمیت حاصل ہے ان کی جانب سے بھی اس مسئلہ پر اختیار کردہ خاموشی فلسطین کے وجود کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے اور اس پر اگر اسی طرح سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں فلسطین قصۂ پارینہ ہوجائے گا۔1946 کے فلسطین اور موجودہ فلسطین کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو فلسطین اب ایک مملکت کے بجائے نقشہ میں چیدہ چیدہ شہروں کی حد تک محدود ہے لیکن ان شہروں کو بھی اگر ’’فلسطین ‘‘ کا نام نہیں دیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ ملک صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا ۔
فلسطین ۔اسرائیل تنازعہ کے دوران ابتداء میں دو مملکتی نظریہ پیش کرتے ہوئے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ کہا جاتا رہا تھا کہ دنیا میں یہودی آبادیوں کے لئے کوئی ملک نہیں ہے اسی لئے انہیں فلسطین میں ایک حصہ دیا جائے لیکن اب دنیا کے نقشہ میں اسرائیل تو نمایاں ہے مگر فلسطین غائب ہوچکا ہے۔گوگل نے سابق میں بھی فلسطین کے نام کو گوگل میاپ سے ہٹایا تھا لیکن اس وقت فلسطین اور دیگر ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والوں کی جانب سے کئے گئے احتجاج پر گوگل نے یہ وضاحت کی تھی کہ مملکت فلسطین کے حدود متعین نہیں ہیں اور وہ چیدہ چیدہ ہے اسی لئے نقشہ پر فلسطین کا نام نہیں ہے۔ دنیا کے 139 ممالک نے مملکت فلسطین کو تسلیم کیا ہے اور ان ممالک میں فلسطین کے سفیر موجود ہیں لیکن اس کے باوجود گوگل میاپ سے فلسطین کے نام کو حذف کیا جانا دراصل مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو گھٹانے اور غیر اہم بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔