حیدرآباد۔یکم؍جنوری، ( سیاست نیوز) فلم ’ پشپا2‘ کے پریمیئر شو کے موقع پر بھگدڑ کا واقعہ تلنگانہ سے نکل کر قومی انسانی حقوق کمیشن تک پہنچ چکا ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے ڈائرکٹر جنرل پولیس اور کمشنر پولیس حیدرآباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بھگدڑ واقعہ کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 4 ڈسمبر کو ’ پشپا2 ‘ کے پریمیئر شو کے موقع پر آر ٹی سی چوراہے پر واقع سندھیا تھیٹر میں بھگدڑ کے واقعہ کے سلسلہ میں حیدرآباد کے ایڈوکیٹ راما راؤ نے قومی انسانی حقوق کمیشن سے شکایت کی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پریمیئر شو کے موقع پر ہیرو الوارجن کی آمد اور پولیس لاٹھی چارج کے نتیجہ میں بھگدڑ پیدا ہوئی جس میں ریوتی نامی خاتون کی موت واقع ہوئی جبکہ ان کے فرزند سری تیجا شدید زخمی ہوئے۔ ایڈوکیٹ کی شکایت پر کمیشن نے ڈائرکٹر جنرل پولیس اور کمشنر پولیس کو ہدایت دی کہ اس واقعہ کے سلسلہ میں سینئر رینک پولیس عہدیدار کے ذریعہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے۔ رپورٹ کی پیشکشی کیلئے 4 ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کی پولیس کو نوٹس سے بھگدڑ کا واقعہ نیا رخ اختیار کرچکا ہے۔ پولیس نے الو ارجن کو گرفتار کیا تھا لیکن وہ ہائی کورٹ سے ضمانت پر ہیں۔ اسی دوران وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا نے کمس ہاسپٹل پہنچ کر زخمی لڑکے سری تیجا کی عیادت کی اور ڈاکٹرس سے صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ سری تیجا کی حالت میں سدھار ہورہا ہے اور وینٹلی لیٹر نکال دیا گیا ہے اور وہ اپنے طور پر سانس لے رہے ہیں۔ ڈاکٹرس کے مطابق مکمل صحت یابی کیلئے وقت لگ سکتا ہے۔ سری تیجا کی عیادت کے موقع پر ریاستی وزیر جذبات سے مغلوب ہوگئیں اور انہوں نے حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔1