قرآن

   

کیونکر تم انکار کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مُردہ تھے اُس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے۔وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر توجہ فرمائی اُوپر کی طرف تو ٹھیک ٹھیک بنادیا اُنھیں ساتھ آسمان اور وہ سب کچھ خوب جانتا ہے۔ (سورۃ البقرہ ۔۲۸۔۲۹)
گزشتہ سے پیوستہ … اگر کہا جائے کہ ثُـمَّ يُحْيِيْكُمْ سے مراد حشر کی زندگی ہے تو پھر ثُـمَّ کے استعمال کا محل معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب قبروں سے اہل قبور اُٹھائے جائیں گے تو فوراً بارگاہ الٰہی میں پہنچیں گے۔ کسی کو ٹال مٹول یا تاخیر کی اجازت نہیں ہو گی۔یہ سب بحث اس وقت ہے جب کہ یہاں زندگی اور موت کے عدد کا حصر مقصود ہو حالانکہ علامہ قرطبی رحمہ اللہ اور دیگر محققین نے تصریح کی ہے کہ حصر مقصود نہیں کیونکہ احادیث صحیحہ میں چار پانچ دفعہ تک موت وحیات کا تکرار ثابت ہے۔ بہر حال اس آیت سے کسی طرح حیات قبر کا انکار ثابت نہیں ہوتا۔ تمام اہل سنت کا یہی مذہب ہے کہ قبر کی زندگی حق ہے۔ اور متعدد احادیث صحیحہ جو حد تواترکو پہنچی ہوئی ہیں حیات قبر کو ثابت کرتی ہیں۔آئندہ رکوع میں انسان کی پیدائش اور اس کو خلیفۃ اللہ کا منصب عطا کیے جانے کا ذکر آرہا ہے۔ اس لئے اس سے پہلے اس کے شرف اور اس کی عظمت کا بیان فرمایا کہ زمین اور اس کے شکم میں پنہاں بےپایاں اور بیش قیمت خزینے ، لہلہاتے ہوئے کھیت اور رسیلے اور رنگیلے پھلوں سے لدے ہوئے سر سبز باغات ، اونچے پہاڑ اور گہرے دریا، رنگ برنگ پرندے اور گوناں گوں چوپائے یہ سب کچھ اسی کی خدمت گزاری کے لئے پیدا کیے گئے ہیں۔ … جاری ہے