حکومت کو فوری توجہ دینے کانگریس قائد عثمان بن محمد الہاجری کی نمائندگی
حیدرآباد۔یکم۔مارچ۔(سیاست نیوز) شہر میں سرکاری اراضیات‘ قبرستانوں ‘ پارکس‘ تالابوں‘فٹ پاتھ کے بعد اب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت محفوظ آثار قدیمہ کی خندق پر بھی قبضہ کیا جانے لگا ہے اور عہدیداروں کی خاموشی کے سبب آثار قدیمہ کے تحت موجود قلعہ گولکنڈہ کی فصیل کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ قلعہ گولکنڈہ کی فصیل کے اطراف موجود خندق میں تعمیراتی اشیاء ڈالتے ہوئے ان خندقوں کو مسطح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کانگریس قائد جناب عثمان بن محمد الہاجری انچارج کاروان نے اس سلسلہ میں محکمہ آثار قدیمہ کے علاوہ متعلق محکمہ جات بشمول مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں تحریری شکایت درج کرواتے ہوئے فوری طور پر ان کاروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو خندق محفوظ ہیں ان کے تحفظ کی ذمہ داری محکمہ آثار قدیمہ پر عائد ہوتی ہے اور محکمہ کے عہدیداروں کی جانب سے خندق کو مسطح کرنے کی کوششوں پر اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قلعہ گولکنڈہ کے اطراف و اکناف سیاسی سرپرستی میں ناجائز قبضہ جات کی پشت پناہی کی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ خندق قلعہ کا حصہ ہیں اور قلعہ گولکنڈہ محکمہ آثار قدیمہ کے تحت محفوظ ورثہ میں شمار کیا جاتا ہے لیکن اسے نقصان پہنچانے کی کوششوں پر اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ خندق کو مسطح کرتے ہوئے اس پر قبضہ کرنے کی کاروائی کو انجام دیا جا رہاہے اور مستقبل قریب میں قلعہ کی دیوار سے متصل جو خندق ہے وہاں تعمیرات کا آغاز کردیا جائے گا۔ جناب عثمان بن محمد الہاجری نے بتایا کہ ریاستی حکومت سے اس سلسلہ میں نمائندگی کرنے کے علاوہ اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ خندق کو مسطح کرنے کی کوششوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور جو لوگ خندق کو نقصان پہنچاتے ہوئے اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرتے ہوئے کاروائی کی جائے۔ شہر حیدرآباد میں درجہ اول کے تاریخی آثار قدیمہ کے تحت موجود مقامات میں چارمینار‘ قلعہ گولکنڈہ اور گنبدان قطب شاہی ہیں اور ان تاریخی مقامات کے سبب شہر حیدرآباد کی منفرد شناخت موجود ہے ۔ ان تاریخی عمارتوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے روزانہ ہزاروں سیاح پہنچتے ہیں لیکن ان تاریخی عمارتوں کو منظم انداز میں نقصان پہنچاتے ہوئے ان کی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ لینڈ گرابرس جو اب تک قبرستانوں‘ تالابوں ‘ نالوں ‘ پارکس اور سرکاری اراضیات کے علاوہ اوقافی اراضیات پر قبضہ کرتے ہوئے انہیں فروخت کیا کرتے تھے اب وہ قلعہ گولکنڈہ کی خندق کو پر کرتے ہوئے اسے مسطح کرنے لگے ہیں اور اگر اس عمل پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ہزاروں مربع گز اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے اسے فروخت کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ دونوں شہروں کے مختلف مقامات پر تعمیراتی ملبہ جو جمع ہورہا ہے وہ قلعہ گولکنڈہ کی خندق میں ڈالا جانے لگا ہے اور اس کے لئے کئی کنٹراکٹرس کو ذمہ داری دی گئی ہے جو کہ خندق کو پر کرنے میں مصروف ہیں ۔مقامی عوام کا کہناہے کہ روزانہ کے اساس پر کئی گاڑی ملبہ خندق میں جمع کیا جارہا ہے اور ملبہ کے سبب خندق مسطح ہونے لگی ہے اور بعض مقامات پر تو قلعہ گولکنڈہ کی خندق کے آثار بھی ختم ہوچکے ہیں۔ جن مقامات پر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے بورڈ آویزاں کئے گئے ہیں ان کے پشت میں ہی تعمیراتی ملبہ ڈالا جا رہاہے۔3