اکابر علماء کے اعتراضات بالائے طاق ۔ اسکولی طلبا کا استعمال
حیدرآباد۔16۔ستمبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ’قومی یوم یکجہتی‘ کے نام پر مختلف علاقو ںمیں نکالی گئی ریالیوں اور جلوسوں کے دوران اسکولی بچوں سے جو نعرے لگوائے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ان تمام نعروں کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن پر اکابر علماء نے اعتراض کرکے ان سے بچنے کی تاکید کی تھی ۔ ملک میں پیدا حالات کے دوران 17 ستمبر کو یوم قومی یکجہتی کے طور پر منانے کے فیصلہ کے بعد آج شہر کے مختلف علاقوں بشمول پرانے شہر کے علاقو ںمیں اسکولی طلبہ کی ریالیاں اور جلوس نکالے گئے اور ان جلوس و ریالیوں کے دوران ان نعروں کو عام کرنے کی کوشش کی گئی جن پر طویل مدت سے اعتراض کیا جاتا رہا ہے ۔ اسکولی طلبہ کے جلوس و ریالیوں میں نعروں کو سننے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان نعروں کو عام کرنے اور بچوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ان کو لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ ان نعروں کے ذریعہ حب الوطنی ثابت ہوتی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر 17 ستمبر کو یومی قومی یکجہتی کے منعقد کرنے اعلان کے بعد شہر کے بیشتر اسکولوںنے طلبہ کے جلوس و ریالیوں کا اہتمام کیا اور ان ریالیوں کے دوران بچوں کے ہاتھ میں ترنگے موجود تھے لیکن وہ جن نعروں کے سہارے حب الوطنی پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ امت کے ذمہ داروں کیلئے لمحۂ فکر ہے۔ بیشتر اسکولوں کی ریالیوں کے دوران ’وندے ماترم‘’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کے نعرے لگائے گئے اور ان کے ذریعہ ریالیوں میں شریک بچوں میں جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔م