قوم و ملت کیلئے روزنامہ سیاست کی دیرینہ خدمات

   

عامر علی خاں کو گورنر کوٹہ ایم ایل سی عہدہ کیلئے نامزد کیا جائے، امریکہ میں غیر مقیم ہندوستانیوں کا اجلاس
تلنگانہ کے سیاسی اداروں میں مسلمانوں کی مناسب نمائندگی کیلئے تبادلہ خیال، شیخ احمد ایاز ایڈوکیٹ و دیگر کا خطاب
سدی پیٹ۔ 27 اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سدی پیٹ کے معزز گھرانے کی شخصیت شیخ احمد ایاز ایڈوکیٹ تلنگانہ ہائی کورٹ جو ایک خانگی دورے امریکہ پر ہیں نے ریاست مشی گن شہر ڈینارائٹ میں غیر مقیم ہندوستانی شہریوں کے ساتھ ایک اجلاس ہوٹل ہالی ڈے ان میں منعقد کیا جس میں ہندوستان کی سیاسی امور اور تلنگانہ کی سیاسی حالات پر غور و خوص کیا گیا اور تلنگانہ کے قانون ساز اور سیاسی اداروں میں مسلم کمیونٹی کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے تبادلہ خیال ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت شیخ احمد ایاز ایڈوکیٹ نے کی مہمان خصوصی محمد منہاج الدین، ڈاکٹر شمس الدین اور زونیب بیگ جو ڈیموکریٹک پارٹی کے سرگرم خاص ہیں کے علاوہ اجلاس میں تلنگانہ اور دیگر ریاستوں کے شہری موجود تھے، سارے شرکائے اجلاس کا یہ احساس تھا کہ روزانہ سیاست حیدرآباد کے دیرینہ ملی خدمات کے عوض اس خاندان کی تیسری نسل کو سیاسی طور پر خدمت کا موقع دیا جائے اس کے لیے عامر علی خان نیوز ایڈیٹر جواں سال و بے باک صحافی کو گورنر کوٹہ میں ایم ایل سی عہدے کیلئے نامزد کرتے ہوئے انہیں وزارت کا قلمدان دیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مناسب نمائندگی ہوسکے۔ یہ ہمدردانہ مطالبہ بطور درخواست بنام صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی ملکارجن کھرگے کی خدمت میں ایک مکتوب ای میل کے ذریعہ ارسال کرتے ہوے پیش کیا گیا۔ اس درخواست میں توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ درخواست نہ صرف جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر کی انفرادی خوبیوں پر مبنی ہے، بلکہ ’’سیاست‘‘ (1947 میں قائم ہونے والا ایک ممتاز اردو روزنامہ) خاندان اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان غیر معمولی اور دیرینہ تعلقات پر بھی مبنی ہے، جو کئی دہائیوں پر محیط ہے، اور ساتھ ہی تلنگانہ کے قانون ساز اور سیاسی اداروں میں مسلم کمیونٹی کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی مبنی ہے۔ اردو روزنامہ ’’سیاست‘‘ کو نہ صرف تلنگانہ میں بلکہ پڑوسی اور دیگر ریاستوں بشمول آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں بھی اردو بولنے والے لوگوں اور مسلم کمیونٹیوں کے درمیان نمایاں قارئین اور اثر و رسوخ حاصل ہے۔سیاست” خاندان کی دیرینہ عوامی مصروفیات اور کانگریس پارٹی کے ساتھ تعلقات نے مسلم کمیونٹی کے حلقوں کے ساتھ پارٹی کے رابطے کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران ’’سیاست‘‘ خاندان کی حمایت اور خیر سگالی پارٹی کے سیاسی تعلقات اور وعدوں کے وسیع تر تناظر میں مناسب توجہ کی مستحق ہے ۔ اس خط میں مسلم نمائندگی کی ضرورت کا احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ مسلم برادری تلنگانہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے، جس کا اندازہ 13 فیصد سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس کے باوجود، قانون ساز اور سیاسی اداروں میں اس کی نمائندگی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس درخواست کے آخر میں ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کے اہم عہداروں سے یہ امید کی گئی کہ اس پارٹی اس درخواست پر ہمدردی سے غور کرے گی اور یہ یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی کہ کانگریس پارٹی کے ساتھ “سیاست” خاندان کے دیرینہ تعلق کو مناسب پہچان ملے۔ ملاحظہ اور ضروری کارروائی کے لیے :1۔ راہول گاندھی ، معزز لیڈر آف اپوزیشن لوک سبھا،2۔ جناب کے سی وینوگوپال ، معزز ممبر پارلیمنٹ اور جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) AICC(I)،3۔ جناب عمران پرتاپ گڑھی، معزز ممبر پارلیمنٹ اور چیئرمین AICC مائیناریٹی ڈپارٹمنٹ 4۔ جناب انومولا ریونت ریڈی ، معزز وزیر اعلیٰ تلنگانہ،5۔ جناب بوما مہیش کمار گوڑ، ایم ایل سی اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی، ای میل کے ذریعہ بھیجی گئی۔