لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر فوج کی چوکسی میں اضافہ

   

جموں : جموں میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر فوج کی چوکسی بڑھادی گئی ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے ۔ذرائع نے بتایا کہ حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر فوج کو مستعد رہنے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سرحد پر مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر گزر رکھی جارہی ہے اور ملک دشمن عناصر کی طرف سے کسی بھی ناموافق کوشش کو ناکام بنانے فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے ساتھ مشترکہ گشت جاری ہے ۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ لائن آف کنٹرول میں اگلی چوکیوں پر تعینات فوجی اہلکار دن رات نظر گزر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سرحد پار سے کوئی بھی ایل او سی کو پار نہ کر سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم انتہائی مستعد ہیں کیونکہ تخریب کاروں نے دراندازی کے ارادارے ترک نہیں کئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں قیام امن کو یقینی بنانے کشمیر کی 350 کلومیٹر سرحد پر چوکسی بڑھادی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ سرحدوں پر تعینات افواج کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے احکامات صادر کئے گئے ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو خاک میں ملایا جاسکے ۔ان کے مطابق سرحدوں پر تعینات افواج دن رات اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔دریں اثنا مینڈھر پونچھ کے جنگلی علاقوں میں تخریب کاروں کی تلاشی آپریشن جاری ہے ۔بفلیاز میں ڈھیرہ کی گلی کے نزدیک 21 دسمبر کو فوجی گاڑیوں پر حملے کے بعد پونچھ اور راجوری کے دیہی علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کردیا گیا تھا جو ہنوز جاری ہے ۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں چار فوجی جاں بحق ہوئے تھے ۔ ادھر راجوری اور پونچھ اضلاع میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ جنگلی علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز نے ناکے لگائے ہیں تاکہ امکانی حملوں کو رونما ہونے سے پہلے ہی ٹالا جاسکے ۔