بائیویٹ کا کارنامہ ملک کا پہلا ٹیکہ ، 2 سال کے دوران 2 لاکھ مویشیوں کی ہلاکت
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بھارت بائیو ٹیک انٹرنیشنل کے ذیلی ادارے Biovet سے لمپی اسکین مرض Lumpy skin disease (LSD) ویکسین دستیاب ہونے والی ہے ۔ یہ ویکسین دودھ دینے والے مویشیوں کو دی جاتی ہے ۔ Biolumpivaccine نامی یہ ٹیکہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ہمارے ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی ویکسین ہے ۔ بائیویٹ پرائیوٹ لمٹیڈ نے انکشاف کیا ہے کہ سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈز کنٹرول آرگنائزیشنس (سی ڈی ایس سی او ) سے لائسنس ملا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ویکسین نہ صرف محفوظ ہے بلکہ کار آمد بھی ہے ۔ اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ICAR-NRCE اور انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IVRA) میں اس کا بڑے پیمانے پر تجربہ کیا گیا ہے ۔ یہ ویکسین بائیویٹ نے ICAR-NRCE حصار کی طرف سے فراہم کردہ LSD وائرس رانچی ؍ 2019 ویکسین اسٹرین کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکہ کی تیاری کی ہے ۔ بھارت بائیوٹیک کے ایگزیکٹیو چیرمین و بائیو ویٹ کے بانی ڈاکٹر کرشنا ایلا نے کہا کہ سی ڈی ایس سی او کا لائسنس حاصل کرنا ہمارے ملک میں مویشیوں کے مستقبل اور ان کی صحت کے نگہداشت میں ایک اہم قدم ۔ انہوں نے کہا کہ اب اس ویکسین کے لیے درآمدات پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ گذشتہ دو سال کے دوران ہمارے ملک میں LSD بیماری کی وجہ سے دو لاکھ مویشی فوت ہوچکے ہیں ۔ کرشنا ایلا نے کہا کہ ’ بائیو لمپی ویکسین ‘ فوری طر پر جاری کی جائے گی ۔ بائیویٹ کے پاس کرناٹک کے مالور میں واقع یونٹ میں سالانہ 50 کروڑ ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت ہے ۔ بائیویٹ کے ذرائع نے بتایا کہ اگر یہ ویکسین دودھ دینے والے مویشیوں کو لگائی جاتی ہے تو ایل ایس ڈی بیماری کی شدت میں کمی آئے گی اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا ۔ جس کے نتیجے میں دیہی معیشت نظام مستحکم ہوگا ۔۔ 2
گائیڈس نے پرندوں کی شناخت کرتے ہوئے ان کی خصوصیات سے واقف کرایا۔ ماہرین نے پرندوں کی شناخت کا ان کی آوازوں سے پتہ چلانے کی تربیت دی ہے۔1