لندن ہائی کورٹ کا نیرو مودی کو 100 کروڑ روپئے ادا کرنے کا حکم

   

بینک آف انڈیا کی درخواست منظور، ہندوستان سے فرار نیرو مودی کو بقایا قرض اور سود ادا کرنا ہوگا

لندن 24 جون :(ایجنسیز) ہندوستان کے مفرور ہیرا تاجر نیرو مودی کو برطانیہ کی ہائی کورٹ سے بڑا قانونی جھٹکہ لگا ہے۔ عدالت نے بینک فراڈ سے جڑے ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے نیرو مودی کو بینک آف انڈیا کی جانب سے دیے گئے قرض کی ذاتی ضمانت کے تحت ذمہ دار قرار دیا ہے، جس کے بعد اسے 100 کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کرنا پڑے گی۔ہائی کورٹ کے جج سائمن ٹنکلر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیرو مودی قرض کی ادائیگی سے متعلق ذاتی ضمانت کا پابند ہے اور اس کے خلاف بینک کا دعویٰ قانونی طور پر درست ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق نیرو مودی پر 4.1 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 38.9 کروڑ روپے) کی اصل رقم واجب الادا ہے، جبکہ اس پر کئی برسوں کا سود بھی شامل کیا جائے گا، جس کے بعد مجموعی رقم 100 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ عدالت میں نیرو مودی کی جانب سے کوئی دفاع پیش نہیں کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق منگل کو منعقدہ سماعت کے دوران نہ تو نیرو مودی اور نہ ہی اس کے وکلاء نے عدالت میں کوئی مؤثر دفاع پیش کیا۔ اس سے قبل نیرو مودی کا موقف تھا کہ بینک کی جانب سے قرض واپسی کے مطالبات اس تک کبھی قانونی طور پر نہیں پہنچے، اس لیے گارنٹی کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بینک آف انڈیا کی جانب سے بھیجے گئے تمام نوٹس نیرو مودی تک پہنچے تھے اور انہیں نظرانداز کیا گیا۔عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد بینک آف انڈیا کو بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ فیصلے کے مطابق نیرو مودی کو اصل رقم، سود اور دیگر واجبات سمیت تقریباً 10.7 ملین امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے، جو بھارتی کرنسی میں 100 کروڑ روپے سے زائد بنتے ہیں۔نیرو مودی پہلے ہی پنجاب نیشنل بینک فراڈ کیس میں بھارت کے سب سے مطلوب مفرور کاروباری افراد میں شمار ہوتا ہے اور اس وقت برطانیہ میں قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہا ہے۔