بی آر ایس سے شمولیت اختیار کرنے والے چار قائدین کو ٹکٹ ، سکندرآباد سے بی رام موہن اور چیوڑلہ سے پی سنیتا ریڈی امکانی امیدوار
حیدرآباد ۔ 23 ۔ فروری(سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے لوک سبھا کی 17 نشستوں کیلئے پارٹی امیدواروں کے انتخاب کے مسئلہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مکمل اختیارات دیئے ہیں تاکہ وہ کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دیں۔ پردیش الیکشن کمیٹی نے 17 نشستوں کیلئے موصولہ 309 درخواستوں کو شارٹ لسٹ کرتے ہوئے ہر حلقہ سے تین ناموں کی ہائی کمان کو سفارش کی تھی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گزشتہ دنوں دورہ دہلی کے موقع پر جنرل سکریٹری تنظیمی امور کے سی وینو گوپال سے امیدواروں کے مسئلہ پر بات چیت کی اور کامیابی کی اہلیت رکھنے والے قائدین کی فہرست حوالے کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان نے 8 حلقہ جات کے امیدواروں کے ناموں کو منظوری دے دی ہے اور دو مراحل میں امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی۔ پہلے مرحلہ میں 8 ناموں کی اجرائی کا امکان ہے ۔ دہلی سے واپسی کے ساتھ ہی چیف منسٹر نے محبوب نگر لوک سبھا حلقہ کیلئے ومشی چند ریڈی کے نام کا جلسہ عام میں اعلان کردیا۔ ومشی چند ریڈی کانگریس ورکنگ کمیٹی میں خصوصی مدعو ہیں اور حالیہ اسمبلی انتخابات میں انہیں ٹکٹ سے محروم رکھا گیا تھا ۔ لوک سبھا چناؤ میں ریونت ریڈی کی سفارش پر ہائی کمان نے ومشی چند ریڈی کے نام کو منظوری دے دی ۔ ذرائع کے مطابق ہائی کمان نے مزید جن ناموں کو منظوری دی ہے ، ان میں 4 قائدین ایسے ہیں جو حال ہی میں بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق ملکاجگری لوک سبھا حلقہ سے کے چندر شیکھر ریڈی کے نام کو ہائی کمان نے منظوری دی۔ ریونت ریڈی لوک سبھا میں اس حلقہ کی نمائندگی کرتے رہے اور اسمبلی کیلئے انتخاب کے بعد انہوں نے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ سابق وزیر پی مہیندر ریڈی کی اہلیہ پی سنیتا ریڈی کو چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ سے امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔ سنیتا ریڈی نے ضلع پریشد چیر پرسن کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ گریٹر حیدرآباد کے سابق میئر بی رام موہن لوک سبھا حلقہ سکندرآباد سے کانگریس امیدوار ہوسکتے ہیں۔ رام موہن جو سابق وزیر کے ٹی راما راؤ کے بااعتماد رفیق تصور کئے جاتے تھے، حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے ملکاجگری یا سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کی خواہش کی تھی۔ سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کیلئے کانگریس کے پاس مضبوط امیدوار نہیں ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو کے فرزند انیل یادو کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیا گیا ، لہذا والد کو ٹکٹ کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ مرکزی وزیر اور موجودہ رکن پارلیمنٹ جی کشن ریڈی سے مقابلہ کے لئے پارٹی سابق میئر بی رام موہن کو مضبوط امیدوار تصور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پدا پلی لوک سبھا حلقہ سے بی وینکٹیش نیتا کو امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔ بی وینکٹیش نے بی آر ایس سے استعفیٰ دے کر حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ نظام آباد لوک سبھا حلقہ کیلئے رکن کونسل ٹی جیون ریڈی اور نلگنڈہ لوک سبھا حلقہ سے سابق وزیر کے جانا ریڈی کے نام زیر غور ہیں۔ ظہیر آباد لوک سبھا حلقہ سے سریش کمار شیٹکر کو پارٹی دوبارہ ٹکٹ دے سکتی ہے۔ پارٹی کے جو دیگر قائدین ٹکٹ کی دوڑ میں ہیں ، ان میں سمپت کمار اور ملو روی نے ناگر کرنول لوک سبھا حلقہ پر دعویداری پیش کی ہے۔ سابق رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ لوک سبھا حلقہ میدک سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ عادل آباد اور کریم نگر اضلاع میں پارٹی امیدواروں کے ناموں کو عنقریب قطعیت دی جائے گی۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کیلئے کانگریس کو کسی موزوں امیدوار کی تلاش ہے۔ ورنگل لوک سبھا حلقہ سے اے دیاکر ، بھونگیر سے ڈاکٹر کومٹ ریڈی سوریا ، محبوب آباد سے بلرام نائک اور کھمم سے پی پرساد ریڈی اور ملو نندنی امکانی امیدوار ہوسکتے ہیں۔ کھمم لوک سبھا حلقہ کے لئے موجودہ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کی اہلیہ نندنی اور ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی کے بھائی پی پرساد ریڈی اہم دعویدار ہیں۔ ہائی کمان کیلئے ان دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا دشوار کن بن چکا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے امیدواروں کے انتخاب میں ان کے ناموں کو ترجیح دینے کی صورت میں 14 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی کا یقین دلایا ہے۔ 1