مالی میں باغیوں کے نئے حملے

   

مالی ۔ 4 جولائی (ایجنسیز) مالی میں طوارق قبیلے کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک کے شمالی علاقے کے ایک ایسے قصبے پر حملہ کیا ہے، جہاں حکومتی فوج اور روسی نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ ادھر شمالی اور وسطی مالی کے دو دیگر علاقوں کے رہائشیوں نے بھی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ یہ حملہ اس مغربی افریقی ملک کی فوجی حکومت کے لیے ایک نئے سیکوریٹی چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں سال اپریل میں بھی باغیوں نے بڑے حملے کیے تھے، جن میں دارالحکومت باماکو کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ملکی وزیرِ دفاع بھی ہلاک ہوگئے تھے اور شمالی علاقوں میں فوج کے متعدد اڈوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ آزواد لبریشن فرنٹ (FLA) کے ترجمان محمد المولود رمضان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے ہفتہ کی صبح سویرے شمال مشرقی کیدال ریجن کے قصبے انیفس پر حملہ کیا۔ حکومتی فوج اور روسی دستے اپریل کے حملوں کے بعد انیفس میں تعینات کیے گئے تھے، جب آزواد لبریشن فرنٹ اور القاعدہ سے منسلک ایک علاقائی گروپ نے کیدال شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
دریں اثنا وسطی مالی کے شہر گاؤ میں ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح ایک فوجی چھاؤنی پر فائرنگ اور راکٹ حملے کیے جا رہے تھے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں کے پیچھے کون سا مسلح گروپ تھا۔ مالی کے حکومتی ترجمان کی جانب سے ان حملوں پر کوئی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔