محمد عارف رضا مصباحی
اسلامی سال کا یہ پہلا مہینہ کئی خصوصیا ت کی بنا پر یاد کیا جاتاہے۔ اس مہینے کی دسویں تاریخ جس کو عاشورا کہتے ہیں ،اسلام میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اس کی حرمت وعظمت قدیم زمانے سے چلی آئی ہے، اس لیے کہ بہت سے اہم واقعات اس تاریخ سے وابستہ ہیں۔محرم کی دسویں تاریخ کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ سے لگی اور اسی روز حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کے ظلم سے نجا ت پائی ،جب کہ فرعون غرق ہو گیا، اسی روز حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اسی روزچالیس سال بعد حضرت یعقوب علیہ السلام سے حضرت یوسف علیہ السلام ملے اور قیامت بھی عاشورا ،جمعہ کے دن قائم ہوگی اور ۶۱ ہجری، دسویں محرم کو جمعہ کے دن نواسہ رسول ،جگر گوشہ بتول سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے کربلا کی تپتی ہو ئی سرزمین پر دین ِاسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنے خاندان اور کئی نفوس قدسیہ کے ساتھ جام ِشہادت نوش فرمایا۔
عاشوراایک بزرگی والا دن ہے۔ اس دن ہر نیک کام بڑے اجر و ثواب کا موجب ہے۔اس دن کوئی بھی نیکی کی جائے اس کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ مثلا ً:والدین کے ساتھ حسن سلوک،پڑوسیوں کی خبر گیری،یتیموں، بیواؤں کے ساتھ ہمدردی وغیرہ ۔ ان میں ایک نیکی بڑی اہم ہے جس کی طرف آج بہت کم دھیان دیاجاتاہے،جب کہ سرکار دوعالم ﷺ نے اس کی بڑی تاکید کی ہے ،وہ ہے یتیم کے ساتھ اچھا برتاو۔
حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو شخص محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اسے ہر بال کے بدلے نیکیاں ملیں گی اور جو یتیم بچی یا بچے اس کے پاس ہیں ان کے ساتھ احسان کرے گاتو میں اور وہ جنت میں اس طرح (ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے )ہوں گے اور آپ نے دونوں انگلیوں کو ملا دیا۔(مشکوٰۃ المصابیح)
عاشورا کے دن بیمار کی عیادت کرنا بڑاکار ثواب ہے۔ سرکار دوعالم ﷺ اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو کوئی عاشورا کے روز بیمار کی عیادت کرتا ہے گویا اس نے تمام بنی آدم کی عیادت کی ہے۔(غنیۃ الطالبین ،ج۲)
سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب غنیۃ الطالبین جلد دوم ص ۵۴میں لکھتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس سال اس کا تجربہ کیا تو وسعت ہی دیکھی اور حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجر بہ کیا تو اس کو صحیح پایا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے اہل و عیال پر اس دن وسعت کریں اور اچھے اچھے پکوان کا انتظام کریں۔ خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں ۔