مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل ارکان سے نمائندگی کا فیصلہ، فیروز خان کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 اگست (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کے متنازعہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔ جنرل سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی اور انچارج نامپلی محمد فیروز خان کی قیادت میں کانگریس کارکنوں نے ٹینک بنڈ پر واقع ڈاکٹر بی آر امبیڈکر مجسمہ کے پاس دھرنا منظم کیا۔ احتجاجی پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جن پر مخالف مسلم قانون سے دستبرداری کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خان نے کہا کہ ملک میں ہندتوا ایجنڈہ پر نریندر مودی حکومت عمل پیرا ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں میں مسلمانوں کے خلاف کئی قوانین منظور کئے گئے اور تیسری میعاد میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے لئے وقف ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے نتیجہ میں مرکزی حکومت نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن نے مخالف مسلم بل کے خلاف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف امور میں حکومت کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اوقافی جائیدادوں کی نگہداشت خالص شریعت قانون کے تحت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل اپوزیشن ارکان مجوزہ قانون کی ترمیمات سے دستبرداری کا مطالبہ کریں گے۔ فیروز خان نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس دور حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاورس کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے کئی اہم اوقافی اراضیات کو خانگی اداروں کے حوالہ کردیا تھا۔ فیروز خان نے بتایا کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے نمائندگی کریں گے اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل اپوزیشن ارکان کو بھی مکتوب روانہ کیا جائے گا۔ احتجاج میں سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی محمد راشد خان اور میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے قائدین شریک تھے۔ 1