مجلس کی کانگریس سے قربت، سیاسی مجبوری یا مصلحت

   

اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ’’ماموں‘‘ نظر انداز،کانگریس کو مسلمانوں کی تائید کی ضرورت، مجلس کو حیدرآباد سے کامیابی کی فکر
کل کے ’’آر ایس ایس انا ‘‘ آج ’’سیکولر چیف منسٹر‘‘سیاسی قلابازی پر مسلمان حیرت میں، کانگریس کے اقلیتی قائدین کو دشواری
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل (سیاست نیوز) سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا ۔ عام طور پر سیاسی پارٹیاں اپنے حلیف اور حریف کے انتخاب کے سلسلہ میں مذکورہ کہاوت کا استعمال کرتی ہے۔ سیاست کا وہ زمانہ نہیں رہا جب اصول پسندی اور عوامی مفادات کو ترجیح دی جاتی تھی ۔ آج تو اصول پسندی کی جگہ مصلحت پسندی نے لے لی ہے اور سیاسی فائدہ کیلئے کسی بھی وقت اصولوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انتخابی کامیابی سیاسی پارٹیوں کیلئے سب کچھ بن چکی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ملک کی سیاست میں روزانہ ’’دل بدلو‘‘ قائدین بڑی تعداد میں منظر عام پر آرہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی مخصوص اصطلاح کے تحت ایسے قائدین کو ’آیا رام گیا رام‘ تعبیر کیا جاتا ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں تلنگانہ کی سیاست نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ راتوں رات دشمنوں کو دوست بنتے دیکھا گیا اور اصول پسندی کو قربان کرکے مصلحت کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد10 برسوں تک کے سی آر کی زیر قیادت بی آر ایس نے تلنگانہ پر حکومت کی۔ 10 برسوں میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کے سی آر نے مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت مجلس کو سر آنکھوں پر رکھا ۔ اگرچہ مجلس نے علحدہ تلنگانہ کے قیام کی مخالفت کی تھی اور رائل تلنگانہ کی تجویز پیش کی تھی لیکن 2014 میں کے سی آر کے برسر اقتدار آتے ہی مجلس اپنا موقف تبدیل کرکے حکومت کی حلیف پارٹی بن گئی ۔ بی آر ایس حکومت کے ساتھ 10 برسوں تک حلیف کا رول ادا کرنے سے مسلمانوں بالخصوص پرانے شہر کو کیا حاصل ہوا، یہ علحدہ بحث کا موضوع ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 10 برسوں میں حلیف جماعت نے برسر اقتدار پارٹی کی طرح رول ادا کرکے حکومت کے ایوانوں میں اپنا مقام بنالیا تھا ۔ ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کی چیف منسٹر تک رسائی نہیں تھی لیکن حلیف مقامی جماعت کے قائدین بآسانی چیف منسٹر سے ربط میں آسکتے تھے۔ 10 برسوں میں لوک سبھا اور اسمبلی کے چناؤ میں مجلس نے کانگریس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی مخالفت میں مجلسی قیادت نے تمام حدود کو پار کردیا تھا اور صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے خلاف شخصی مہم شروع کی گئی ۔ ریاست کے عوام اس بات کو بھولے نہیں ہیں کہ مجلسی قیادت نے اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ’ماموں‘ کو ووٹ دیں۔ کانگریس کی مخالفت میں نہ صرف راہول گاندھی بلکہ ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ ریونت ریڈی کو ’آر ایس ایس انا‘ اور ’آر ایس ایس ٹلو‘ جیسے القابات سے نوازا گیا ۔ شہری علاقوںکے مقابلہ دیہی علاقوں کے مسلم رائے دہندوں نے کانگریس کے حق میں متحدہ رائے دہی کی جس کے نتیجہ میں 64 نشستوں کے ساتھ پارٹی برسر اقتدار آگئی ۔ اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی مصلحت کی سیاست شروع ہوگئی اور 10 سالہ حلیف کو چھوڑ کر مجلس نے کانگریس کا دامن تھام لیا۔ تین ماہ کے عرصہ میں مجلسی قیادت نے نہ صرف پانچ سال تک تائید کا بھروسہ دلایا بلکہ کل کے ’آر ایس ایس انا‘ کو آج ’سیکولر چیف منسٹر‘ کا خطاب دیا۔ مجلس کے موقف میں اچانک تبدیلی نے کانگریس کے ان اقلیتی قائدین کے سیاسی مستقبل پر سوال کھڑا کردیئے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برسوں میں مقامی جماعت کے خلاف جدوجہد کی تھی ۔ مجلس کی کانگریس سے قربت سیاسی مجبوری ہے یا پھر مصلحت اس بارے میں رائے دہندوں میں مختلف تبصرے کئے جارہے ہیں ۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مقامی جماعت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ برسر اقتدار پارٹی کے ساتھ رہی تاکہ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل ہوسکے۔ متحدہ آندھراپردیش میں تلگو دیشم اور کانگریس کی تائید کی گئی تھی ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسمبلی چناؤ کے فوری بعد لوک سبھا الیکشن نے بھی کانگریس پارٹی کو مجلس سے دوستی پر مجبور کردیا ہے۔ کانگریس نے لوک سبھا الیکشن میں 14 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے اور نشانہ کی تکمیل مسلمانوں کی تائید کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ تلنگانہ کے تمام مسلم رائے دہندے مقامی جماعت کے حامی نہیں ہیں لیکن کانگریس نے مجموعی طور پر مسلمانوں کی تائید کیلئے 7 ارکان پر مشتمل مقامی جماعت سے دوستی کا فیصلہ کیا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مجلس کے ساتھ کانگریس کا اتحاد دونوں کی سیاسی مجبوری اور مصلحت کا نتیجہ ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مقامی جماعت کو بھی مضبوط سہارے کی تلاش تھی کیونکہ شہر کے دو اسمبلی حلقہ جات یاقوت پورہ اور نامپلی میں مقامی جماعت شکست سے بال بال بچ گئی ۔ اب جبکہ کانگریس برسر اقتدار ہے ، لہذا 16 لوک سبھا حلقوں میں مسلمانوں کی تائید کے عوض میں لوک سبھا حلقہ حیدرآباد سے کامیابی کو یقینی بنانا بنیادی مقصد ہے۔ الیکشن کے فوری بعد بی آر ایس عدم استحکام کا شکار ہوچکی ہے اور مقامی جماعت کیلئے بی آر ایس کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھنا اس لئے بھی ممکن نہیں تھا کہ حکومت کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ الغرض برسر اقتدار کانگریس اور مقامی جماعت مجلس دونوں اپنے اپنے داؤ پر ہیں اور رائے دہندوں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سیاسی اتحاد اور مفاہمت ہوچکی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ تلنگانہ کے مسلمان نئے اتحاد کو کس حد تک تسلیم کریں گے۔ 1