فریدہ بیگم بنت اکبر خان
حضور اکرم ﷺ کی بچپن میں حرکات و سکنات بہت دلفریب اور سلیقہ مندانہ تھیںاور بچو کی طرح خاک و دھول میں کھیلنے ، لوٹنے ، رونے دھونے اور ضد کرنے کی عادت آپؐ کے اندر سرمو نہ تھیں۔ صرف مسکراتے رہتے تھے ۔ کپڑوں کو کبھی میلا اور خراب نہ ہونے دیتے تھے اور بڑے ہوئے تو سلیقہ اور تمیز نے اور ترقی کی ۔ ہمسن اور کم عمر بچوں کے ساتھ دوڑتے پھرتے ضرور تھے لیکن وہ شوخیاں آپؐ کے اندر نہ تھیں جو اس عمر میں ہوا کرتی ہے اور جو عرب میں اُس وقت خصوصیت کے ساتھ کسی سے کبھی نہ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے اور نہ کسی کو بُرا بھلا کہتے تھے اور کمزور و ضعیف بچوں کا دل بڑھاتے اور اُن سے ہمدردی کرتے رہتے تھے ۔ آپؐ کے چچا ابوطالب کثیرالعیال بھی تھے اور مالی حالت بھی اچھی نہ تھی اس لئے بارہ برس کی عمر میں آپؐ نے اُن کی بکریاں چرانے کے لئے جانے لگے جو اُس عہد میں ایک شریفانہ کام سمجھا جاتا تھا ۔
آپ ﷺ کی سیرت پاک جوانی کے مرحلے میں : اتنے گناہ آلود ماحول ، بڑی سوسائٹی اور مذموم گرد و پیش میں محمد رسول اﷲ ﷺ کی جوانی کا آغاز ہوا ۔ قدم قدم پر فتنوں کا ہجوم اور برائیوں کا جمگھٹا ، نفس کی رغبت اور میلان کیلئے ہر قسم کی سہولتیں موجود تھیں۔ اس سراپا معصیت ماحول میں عبداﷲ کے صاحبزادے محمد رسول اﷲ ﷺ نے انتہائی تقویٰ ، طہارت ، پاکیزگی اور خوش اخلاقی کے ساتھ دورِ جوانی اور عہد شباب گزارا ۔وہ ان قاتلوں ، سفاکوں اور لٹیروں میں تنہا مصلح و سلامتی کا پیامبر ، چوروں ، رہزنوں ، پیماں شکنوں اور جھوٹوں میں اکیلا صادق و الوعد اور امانت دار ۔ جواریوں ، شرابیوں اور بدکاروں میں تنہا مشفی ، پرہیزگار اور نیک کردار تھا ۔ زیادہ سے زیادہ نیکی کا تصور جو انسان کرسکتا ہے محمد رسول اﷲ ﷺ اس سے زیادہ نیک اور صالح فطرت تھے ۔ انسانیت کی بلندی کا آخری مقام جو ذہن میں آسکتا ہے۔ محمد رسول اﷲﷺ کی شخصیت اس سے بھی بہت بلند تھی ۔ دنیا کے اندھیرے میں یہی ایک چراغ تھا ، زمانہ کے خارستان میں اُس کی ذات گلاب بن کر مہک رہی تھی ۔ عام رنگ و بو میں بس وہی ایک ذاتِ حق و صداقت کا مرکز اور ہدایت کا روشن مینارہ تھی ۔ یہی ایک انسان ناطق تھا جس کے نطق پر سچائی ناز کرتی تھی ۔ اکابرین قریش میں تذکرہ ہوتے کہ نہ جانے یہ کون ہے اور آگے چل کر کیا بننے والا ہے ۔ اس انداز کا شریف ، سچا اور نیک کردار آدمی ہم نے نہ تو دیکھا نہ کانوں سے سنا ۔ صاحبو ! کسی سے وعدہ کرے تو چاہے زمین ٹل جائے ، آسمان ٹوٹ پڑے مگر یہ اپنے قول سے نہیں پھرسکتا ۔
محمد رسول اﷲ ﷺ کی جوانی چاندی سے زیادہ اُجلی اور پھولوں سے بڑھ کر بے داغ اور معصوم تھی ۔ قدرت نے آپؐکے دامن کردار پر بھول چوک کی برچھائیں بھی نہ پڑنے دی ۔ یہ آپ رسول اﷲ ﷺ کی آخری معیار اور سیرت و کردار کی معراج تھی ۔ آپؐ کے دشمن بھی عصمت ، پاک دامنی اور خوش اخلاقی کے قائل تھے۔ تاریخ نہیں بتاسکتی کہ محمد رسول اﷲ ﷺ کے کسی دشمن نے آپؐکے پیغام کو جھٹلایا ، سارے عرب کو آپؐ کے خلاف جنگ کے لئے کھڑا کردیا لیکن کوئی شخص آپؐ کی زندگی اور ذات و شخصیت پر تہمت نہ لگاسکا ۔ محمد رسول اﷲ ﷺ کی سچائی ، راست بازی اور عدل و نکوکاری سے متاثر ہوکر قوم نے آپ کو ’’امین ‘‘ کا خطاب دیا ۔سب لوگ رسول اﷲ ﷺ کااحترام کرتے تھے ۔ بوڑھے بوڑھے قریش محمد کی بڑائی اور عظمت کو محسوس کرکے عزت کرنے کیلئے مجبور ہوجاتے ۔