عہدیداروں کے انتخاب میں بھی مصلحتیں ۔ چیف منسٹر کو بھی غلط باور کروانے کی کوششیں
حیدرآباد۔28۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت خود محکمہ اقلیتی بہبود کو تباہ کرکے اس کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے! متعلقہ اور چیف منسٹر کے دفتر کے عہدیدار یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں کوئی مسلم عہدیدار خدمات کیلئے آمادہ نہیں ہے جبکہ جو عہدیدار خدمات کیلئے آمادہ ہیں ان کے تبادلوں اور ترقیات میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں اور جو عہدیدار محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ان کے نام لے کر کہا جا رہاہے کہ وہ اقلیتی بہبود کے کسی ادارہ میں کام کرنے تیار نہیں ہیں۔ مختلف محکمہ جات میں موجود مسلم عہدیداروں میں بعض عہدیدار جو جوائنٹ سیکریٹری ہیں انہیں مشروط ترقی دے کر محکمہ اقلیتی بہبود میں تقرر کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے جو عہدیدار آمادہ ہیں ان کے تقرر کی بجائے مستعفی عہدیداروں کے دوبارہ تقرر کی راہیں ہموار کی جار ہی ہے تاکہ محکمہ کے امور کو سبکدوش افراد کے سپرد کردیا جائے۔ حکومت کے ذمہ داروں بالخصوص چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی عہدیدار محکمہ میں خدمات کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ حکومت عہدیداروں کی مرضی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اگر تبادلہ کیاجاتا ہے تو عہدیداروں کیلئے لازمی ہوتا ہے کہ جہاں تقرر کیا گیا وہاں رپورٹ کریں ۔اس کے علاوہ جن عہدیداروں کی ترقیات میں رکاوٹ پیدا کرکے مستقل ایک جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے وہ بھی اسی سازش کا نتیجہ ہے کہ محکمہ میں بعض سابق عہدیداروں کو دوبارہ متعین کرنے کے اقدامات کئے جائیں جبکہ ایسا درست نہیں ہے لیکن اگر چیف منسٹر کو مسلسل یہ باور کروایا جاتا رہے کہ کوئی عہدیدار موجود نہیں ہے تو وہ بھی موظف عملہ کی خدمات کی ہدایت دینگے ۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے علاوہ محکمہ کے دیگر اداروں میں جہاں کسی مستقل سربراہ موجود نہیں ہے ان پر دیگر محکمہ جات کے کئی عہدیداروں کا تقرر کیا جاسکتا ہے لیکن سی ای او وقف بورڈ معاملہ میں رسہ کشی پر کہا جار ہاہے کہ چیف سیکریٹری نے وقف بورڈ اور سی ای او میں تنازعہ کی مکمل تفصیلات حاصل کرکے اندرون ایک ہفتہ مسئلہ کی یکسوئی کے اقدامات کا جائزہ لیا ہے منوگوڑ انتخاب کے بعد چیف منسٹر کو صورتحال سے واقف کروانے کے بعد احکام جاری کئے جائیں گے۔ وقف بورڈ کے 20 اکٹوبر کے اجلاس کو وقف ایکٹ کے خلاف اور غیرقانونی قرار دینے والے عہدیداروں نے شائد بورڈ اختیارات اور اجلاس کے سلسلہ میں وقف ایکٹ کا مطالعہ نہیں کیا کیونکہ ایکٹ کے مطابق اندرون دو ماہ بورڈ کا اجلاس لازمی ہے جبکہ تلنگانہ بورڈ کا اجلاس طویل مدت سے منعقد نہیں ہوا تھا اور نہ وقف ایکٹ کی دہائی دینے والے عہدیداروں کو اپنی اس غیر قانونی حرکت کا احساس ہے۔