آر ٹی آئی درخواست پر محکمہ کا جواب، ایک بھی نئی اسکیم کا آغاز نہیں ہوا، تعلیمی اور معاشی اسکیمات متاثر
حیدرآباد۔/12 فروری، ( سیاست نیوز) ریاست میں کانگریس برسراقتدار آئے ایک سال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ایک بھی نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات سے قبل میناریٹیز ڈیکلریشن جاری کرتے ہوئے اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق کئی وعدے کئے تھے لیکن ایک سال کی تکمیل کے بعد آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں محکمہ اقلیتی بہبود نے اعتراف کیا کہ 2024 سے جاریہ سال جنوری تک نئی اسکیمات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ محکمہ نے آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں کہا کہ 2024 سے آج تک کوئی اسکیم کا اعلان اور عمل آوری نہیں کی گئی ہے۔ 5 فروری کو محکمہ اقلیتی بہبود نے آر ٹی آئی درخواست کا جواب دیا جس میں بجٹ کے خرچ کی تفصیلات بھی جاری کی گئی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے2997 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا تھا جس میں سے جاریہ سال جنوری تک 1099 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ بجٹ کی اجرائی 2265.74 کروڑ بتائی گئی ہے۔ اقامتی اسکولوں سے متعلق سوسائٹی کیلئے بجٹ میں 1000 کروڑ مختص کئے گئے جس میں سے 560 کروڑ خرچ کئے گئے۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کیلئے حکومت نے سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا ہے کیونکہ اس کے تحت 204 اقامتی اسکولس اور جونیر کالجس موجود ہیں۔ آر ٹی آئی درخواست کے جواب کے مطابق ڈائیٹ چارجس کے تحت حکومت نے 120 کروڑ مختص کئے جس میں سے 46.56 کروڑ خرچ کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت موجود اسکیمات پر عمل آوری کا موقف انتہائی مایوس کن ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے 300 کروڑ مختص کئے گئے اور 225 کروڑ کی اجرائی کے باوجود اسکیم پر عمل آوری نہیں ہوئی۔ ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت صرف ایک کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ بجٹ میں 30 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی مختلف اسکیمات کیلئے 150 کروڑ مختص کئے گئے لیکن محض0.16 کروڑ خرچ کیا گیا ہے۔ اوورسیز اسکالر شپس اسکیم کیلئے 130 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ 76 کروڑ روپئے طلبہ کو جاری ہوئے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے 650 کروڑ کے منجملہ 282 کروڑ خرچ کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ وقف بورڈ کیلئے حکومت نے 120 کروڑ مختص کئے لیکن مختلف اسکیمات کے تحت 67 کروڑ خرچ کئے گئے۔ آر ٹی آئی کے تحت تلنگانہ وقف ٹریبونل، پری میٹرک اسکالر شپ، ایم ایس ڈی پی اسکیم، اردو اکیڈیمی اور سروے کمیشن وقف کے بجٹ اور خرچ کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں سابقہ اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی ہے اور اس کے لئے بھی بجٹ کے خرچ کا رجحان مایوس کن ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اقلیتی خاندانوں کو فائدہ ہو۔1