مصلحت کے یہ نئے جال بچھائے ہیں کہ بس
شاخ گل پر بھی ہمیں سانپ نظر آتے ہیں
ریاست مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے طویل اقتدار کے دوران کئی اسکامس پیش آ رہے ہیں۔ ریاست میںپہلے بھی کئی بڑے اسکامس منظر عام پر آئے تھے تاہم ریاست اور مرکز میں بی جے پی کی ہی حکومت ہونے کے نتیجہ میں ان اسکامس کی پردہ پوشی کردی گئی تھی ۔ ویاپم اسکام نے سارے ملک کی توجہ حاصل کرلی تھی اور اس کے نتیجہ میں کئی اموات بھی ہوئی ہیں۔ کئی افراد نے خود کشی کی ہے تو کچھ افراد کو ہلاک کئے جانے کے بھی الزامات سامنے آئے تھے تاہم حکومت کی جانب سے ان معاملات میں کسی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی اور صرف سیاسی تنقیدوں کے جوابات دینے پر اکتفاء کیا گیا تھا ۔ اب ریاست میں ایک اور اسکام سامنے آیا ہے اور یہ چاول اسکام ہے ۔ اس اسکام میںریاست میں خانگی مل مالکین ‘ ایتھینال مافیا اور حکومت کے کچھ اہلکار ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ اسکام یہ ہے کہ جو جو چاول غریب عوام کیلئے ‘ تغذیہ کی کمی کا شکار بچوں کیلئے اور حاملہ خواتین کیلئے سربراہ کئے جانے تھے انہیں ایتھینال مافیا کے ذریعہ دوبارہ ملوںکو بھیج دیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس اسکام میںکئی بڑے کارندے بھی شامل ہوسکتے ہیں اور ان کی تحقیقات کے مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ حسب روایت حکومت کا جہاں تک سوال ہے تو اس معاملے میں بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے حالانکہ کئی حقائق دھیرے دھیرے منظر عام پر آ رہے ہیں۔ کچھ چاول سے لدے ٹرک کا پتہ بھی چلا ہے اور کچھ کی ضبطی بھی عمل میں آئی ہے ۔ اس کے باوجود حکومت سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن کا الْزام ہے کہ ملزمین کو بچانے اور چھپانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں طویل عرصہ سے بی جے پی کی حکمرانی ہے اور اس کے راج میں جہاں کرپشن کا عروج ہو رہا ہے وہیں وزیر اعظم نریندر مودی اس پر مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور کسی طرح کی کارروائی کرنے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنانے والی بی جے پی کی مرکزی قیادت بھی اس پر لب کشائی کیلئے تیار نہیں ہے ۔
مرکز اور ریاست دونوں ہی جگہ بی جے پی کے اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلسل اس طرح کے اسکامس اور الزامات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ ان کی تحقیقات کو آگے بڑھانے سے گریز کیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں اسکامس کرنے والوں کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں۔ وہ کھلے عام اپنی من مانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور قوانین اور عوامی مفادات کی پرواہ کرنے کو تیار نہںی ہیں۔ بدعنوانیاں اور کرپشن عام ہوگئے ہیں۔ جس طرح حکومت مسلسل ان اسکامس کو نظر انداز کر رہی ہے اسی طرح میڈیا بھی ان معاملات میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے کیونکہ وہ بی جے پی کو نشانہ بنانے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ حکومت اور اقتدار کے تلوے چاٹنے والا میڈیا جہاں اپوزیشن کا مسئلہ ہوتا ہے تو محض ہوا میں عائد کئے جانے والے الزامات پر بھی ہوا کھڑا کردیتا ہے تاہم مدھیہ پردیش میں مسلسل کئی اسکامس سامنے آنے اور کچھ ضبطیاں اور گرفتاریاں ہونے کے باوجود اس تعلق سے لب کشائی کرنے یا عوام کو اس کی اطلاع فراہم کرنے میں مجرمانہ غفلت برت رہا ہے اور اپنے پیشہ سے ناانصافی کی جا رہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں ہر شعبہ میں مافیا بن گئے ہیں جو عوامی رقومات کو لوٹ رہے ہیں اور من مانی انداز میں کام کیا جا رہا ہے ۔ انہیں نہ قانون کا ڈر رہ گیا ہے اور نہ ہی وہ حکومت سے کسی کارروائی کا خوف رکھتے ہیں ۔ وہ بے لگام ہو کر اپنی غیرقانونی اور خلاف قانون سرگرمیوںکو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مرکزی حکومت اور مدھیہ پردیش حکومت دونوں ہی کو اس معاملے کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے اور اقتدار کے زعم میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ عوامی رقومات کا خرد برد اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کرنے چاہئیں اور جو لوگ اس طرح کی خلاف قانون حرکتوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔ حکومت کی خاموشی عوامی برہمی کا سبب بن سکتی ہے اور عوام میں بے چینی و برہمی پیدا ہوجائے تو پھر حکومت کیلئے حالات بگڑ سکتے ہیں۔