حیدرآباد۔29۔اگسٹ(سیاست نیوز) مرزارحمت بیگ نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا!جوائنٹ سیکریٹری کل ہند مجلس اتحادالمسلمین جناب ایس اے حسین انورنے گذشتہ شب پارٹی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس اور ذرائع ابلاغ اداروں کو روانہ کردہ پریس نوٹ میں مرزارحمت بیگ کو پارٹی سے برطرف کردیئے جانے کے علاوہ انہیں فوری طور پر صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سے ملاقات کرتے ہوئے کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ پیش کرنے کی ہدایت دیئے جانے کے متعلق واقف کروایا تھا ۔ رحمت بیگ کے استعفیٰ اور ان کے موقف کے متعلق واقفیت کے لئے ذرائع ابلاغ اداروں کے نمائندے قانون ساز کونسل میں صدرنشین کے دفتر پر موجود تھے لیکن شام ہونے تک بھی رحمت بیگ وہاں نہیں پہنچے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق رحمت بیگ نے مجلس کے ذمہ داروں پر واضح کردیا کہ وہ کونسل کی رکنیت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صدرمجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے بااعتماد رکن اسمبلی کو رحمت بیگ کو مستعفی کروانے کی ذمہ داری تفویض کی تھی لیکن صبح کی ابتدائی ساعتوںمیں رکن اسمبلی سے ایک مرتبہ رابطہ کے بعد دونوں کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا اور جماعت کے ذمہ داروں نے رکن قانون ساز کونسل کی تلاش شروع کردی لیکن رات دیر گئے تک بھی وہ ناکام رہے۔ شام کے وقت مرزارحمت بیگ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا کے ایک غیر معروف پیج کے ذریعہ نشر کیاگیا جس میں انہوں نے خود کے بے قصور ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے اور AI ویڈیو کے ذریعہ انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’’اشلیل‘‘ یعنی فحش ویڈیو کے ذریعہ انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہو ںنے اپنے ویڈیو پیام میں دعویٰ کیا کہ وہ بغرض ادائیگی عمرہ 26 اگسٹ کو اپنے افراد خاندان کے ساتھ10 دن کے لئے مکہ مکرمہ میں ہیں حالانکہ دستیاب اطلاعات کے مطابق گذشتہ یوم سہ پہر کے بعد رحمت بیگ شانتی نگر میں واقع ایک معروف چائے کی ہوٹل کے قریب اپنی گاڑی میں چائے نوشی کررہے تھے ۔رحمت بیگ کے استعفیٰ پیش نہ کئے جانے کے پر مجلسی قائدین و کارکنوں میں چہ مئیگویاں شروع ہوچکی ہیں اور کہا جارہاہے کہ بات کرنے یا ذرائع ابلاغ کو بیان دینے سے قبل ’’نقیب ملت الحاج بیرسٹراسدالدین اویسی کی ہدایت ‘‘ جیسے الفاظ سے شروع ہونے والے شخص کو استعفیٰ پیش کرنے کی ہدایت پر وہ انکار کس طرح کر رہا ہے!ذرائع کے مطابق جماعت کی جانب سے ہدایت جاری کئے جانے کے 18تا20 گھنٹے گذرنے کے بعد بھی مکتوب استعفیٰ روانہ نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا جارہاہے ۔3
رحمت بیگ کے مستعفی ہونے پر ایم ایل سی نشست خالی ہوگی!
شہری ادارہ جات کے انتخابات کی تکمیل تک پُر کرنا مشکل
حیدرآباد۔29۔اگسٹ(سیاست نیوز) رحمت بیگ کے استعفیٰ کے بعد تلنگانہ قانون ساز کونسل کی ایک اور نشست مخلوعہ ہوجائے گی اور شہری ادارہ ٔ جات مقامی کے انتخابات کا عمل مکمل ہونے تک اسے پر نہیں کیا جاسکے گا۔ رحمت بیگ کے استعفیٰ کی صورت میں رکن قانون ساز کونسل بنائے جانے کے دعویدار قائدین کو چاہئے کہ وہ اپنے سیاسی عزائم کو پیش کرنے سے قبل اس بات سے واقفیت حاصل کرلیں کہ اگر یہ نشست خالی ہوتی بھی ہے تو ایسی صورت میں فوری طور پر اس نشست پر انتخابات ممکن نہیں ہیں کیونکہ 40 رکنی تلنگانہ قانون ساز کونسل میں رحمت بیگ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود سے کارپوریٹرس واراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل کے ووٹ سے منتخب ہوئے تھے اور 2مئی 2023 کو ہوئے ان کے انتخاب کے بعد ان کی معیاد 2029 تک ہے اور اگراب وہ مستعفی ہوتے ہیں تو ان کی نشست بھی نظام آباد ادارہ جات مقامی کے زمرہ میں منتخب ہونے کے بعد مستعفی ہونے والی کے کویتا کے استعفیٰ کے نتیجہ میں جس طرح نشست مخلوعہ ہے اسی طرح یہ نشست بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ ملکا جگری میونسپل کارپوریشن‘ اور سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے عمل کی تکمیل تک مخلوعہ رہے گی۔ محترمہ کے کویتا نے 3ستمبر 2025کو اپنی رکنیت کی معیاد2028 تک ہونے کے باوجود مستعفی ہوگئی تھیں اور اب بھی ان کی نشست نظام آباد کے ادارہ جات مقامی میونسپلٹی کے انتخابات کا عمل مکمل نہ ہونے کے سبب نشست مخلوعہ ہے ۔ اگر اب رحمت بیگ مستعفی ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں اس مخلوعہ نشست کو فوری طور پر انتخابات کا کوئی امکان نہیں ہے اس طرح تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مجلس کی تعداد 50 فیصد کم ہوجائے گی اور 2 اراکین قانون ساز کونسل میں ایک مستعفی ہونے کے بعد ایک ہی رہ جائے گا۔ بتایاجاتاہے کہ مجلس پارٹی کے بعض قائدین رحمت بیگ کے استعفیٰ سے خالی ہونے والی نشست پر اپنی وفاداریوں اور نیک نامی کی بنیاد پر دعوے بھی پیش کرنے لگے ہیں اور بعض سرگرم کارکنوں کے حواری اپنے اپنے پسندیدہ افراد کے متعلق سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے لگے ہیں۔3
رحمت بیگ کا مجلس سے اخراج ناکافی قانونی کارروائی کی جائے : رامچندر راؤ
کانگریس اور بی آر ایس چپ کیوں ہیں، ماضی کے تمام واقعات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 29 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ بی جے پی کے صدر رامچندر راؤ نے مجلس کے ایم ایل سی رحمت بیگ کے خلاف ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس سارے معاملہ پر کانگریس اور بی جے پی کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا۔ رحمت بیگ کے ماضی میں پیش آئے تمام متعلقہ واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ مجلس کی جانب سے اپنے ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے فوری برطرف کرنے اور کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ طلب کرنے کے فیصلے کے بعد حیدرآباد کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تلنگانہ کے بی جے پی صدر رامچندر راؤ نے مجلس پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شرم کی بات ہیکہ ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ ایم ایل سی کی بدسلوکی کے بعد مجلس نے صرف پارٹی سطح پر کارروائی کرتے ہوئے اس واقعہ سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ رحمت بیگ کے خلاف کئی سنگین الزامات ہے۔ مجلس پارٹی کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف پارٹی سے خارج کردینا کافی نہیں ہے بلکہ قانون کے مطابق مکمل کارروائی اور غیرجانبدارانہ پولیس انکوائری ہونی چاہئے۔ رامچندرا راؤ نے حکمران کانگریس اور اصل اپوزیشن بی آر ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں اور اپنا منہ کیوں نہیں کھول رہے ہیں جبکہ رحمت بیگ کے ایم ایل سی منتخب ہونے میں کانگریس اور بی آر ایس دونوں ہی جماعتوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں سامنے آئے اور اس واقعہ کی کھل کر مذمت کریں۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر نے کہا کہ اس واقعہ کی اور ماضی میں پیش آئے تمام متعلقہ واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔2