مرکز اور آر بی آئی نے عام مارکٹ سے قرض حاصل کرنے کیلئے تلنگانہ پر پابندیاں عائد کردی

   

تلنگانہ آر بی آئی کی نیلامی میں حصہ نہیں لے سکا ، ترقیاتی اقدامات فلاحی اسکیمات متاثر ہونے کا امکان
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے لیے قرض کا حصول مشکل ہوگیا ہے ۔ محکمہ فینانس کو ریونیو اخراجات کے علاوہ ترقی اور فلاحی اسکیمات کی عمل آوری کے لیے رقمی انتظامی میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ ریاستی حکومت کو کھلے بازار میں قرض کے حصول کے لیے ایک طرف مرکزی حکومت اور دوسری طرف آر بی آئی کی عائد کردہ تحدیدات سے مشکلات حائل ہورہی ہیں ۔ محکمہ فینانس کے ذرائع نے بتایا کہ مالیاتی سال 2022-23 کے ابتداء سے شروع ہونے والے مالی مسائل کب تک برقرار رہیں گے ، اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ محکمہ فینانس کے عہدیدار موجودہ مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے فکسڈ ڈپازٹس کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔ ریاست کو مالیاتی ضروریات کے پیش نظر ایف ڈیز سے دستبرداری کے معاملے میں عارضی طور پر دستبردار ہونے پر غور کررہی ہے ۔ اگر آئندہ دس ماہ کے دوران یہی صورتحال رہی تو ریاست کا مالیاتی نظام درہم برہم ہوجانے کے خدشات پائے جاتے ہیں ۔ حکومت نے قرض کی وصولی کے لیے مرکز کی جانب سے عائد کردہ غیر ضروری پابندیوں میں نرمی کے لیے عدالت عدلیہ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تیزی سے ترقی کرنے والی تلنگانہ ریاست سے مرکزی حکومت مالیاتی امتیاز کرنے کا حکومت پر برسر عام الزام عائد کررہی ہے ۔ حال ہی میں مرکزی محکمہ فینانس کی جانب سے اہتمام کردہ تمام ریاستوں کے محکمہ جات فینانس کے ویڈیو کانفرنس کے اجلاس میں اسپیشل پرنسپل سکریٹری محکمہ فینانس تلنگانہ کے راما کرشنا نے بھی اس مسئلہ کو اٹھایا تھا اور کہا کہ 15 ویں فینانس کمیشن کی کسی بھی سفارش کے بغیر مرکزی حکومت آف بجٹ ۔ قرض ۔ سرکاری گیارنٹی شدہ کارپوریشن کے بجائے براہ راست حکومت کے گیارنٹی شدہ کارپوریشنس کے قرض کو ریاستوں کے قرض کے طور پر شمار کررہی ہے جو قابل اعتراض ہے اور اسی اجلاس میں حصول قرض کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلہ میں ایک مکتوب بھی روانہ کیا باوجود اس کے مرکزی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ اسی تناظر میں آر بی آئی کی جانب سے منگل کو اہتمام کردہ نیلامی میں ریاست تلنگانہ حصہ لینے سے قاصر رہی ۔ آر بی آئی ملک کی دوسری ریاستوں کو نیلامی میں حصہ لینے اور بولی لگانے کی اجازت دی مگر تلنگانہ کو اجازت نہیں دی ۔ مرکزی حکومت اور آر بی آئی کی ان تحدیدات سے تلنگانہ کو 5 تا 6 ہزار کروڑ روپئے تک قرض گھٹ جائے گا اور اس کا ترقیاتی اقدامات اور فلاحی اسکیمات پر اثر پڑنے کا امکان ہے ۔۔ ن