مرکز ‘فیول پر سیس ختم کرے ‘ پٹرول 70 ‘ڈیزل 60 روپئے لیٹر ہوجائیگا

,

   

مودی حکومت نے سیس عائد کرکے 30 لاکھ کروڑ روپئے کمائے ۔ ریاستوں پر الزام درست نہیں : کے ٹی آر

حیدرآباد 15 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) ملک میں بڑھتی ہوئی فیول قیمتوں کیلئے ریاستوں کو ذمہ دار قرار دینے پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی آر ایس کے ورکنگ صدر و ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ پٹرول اور ڈیزل پر سیس کو ختم کرے تاکہ ریاستوں میں پٹرول فی لیٹر 70 روپئے اور ڈیزل فی لیٹر 60 روپئے فروخت کیا جاسکے ۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ 2014 کے بعد سے تلنگانہ میں فیول پر ویاٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ آج لوک سبھا میں و قفہ سوالات کے دوران مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ بین الاقوامی مارکٹ میں گدشتہ دو برسوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجد ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی ریٹیل قیمتوں میں معمولی سا اضافہ کیا گاے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نومبر 2021 سے مئی 2022 کے دوران اکسائز ڈیوٹی میں دو مرتبہ کمی کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ غیر بی جے پی اقتدار والی چھ ریاستیں ویاٹ میں کمی نہیں کر رہی ہیں۔ ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال ‘ تلنگانہ ‘ ٹاملناڈو ‘ آندھرا پردیش ‘ کیرالا اور جھارکھنڈ کی حکومتیں اگر ویاٹ میں کمی کریں تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ان ریاستوں میں کمی آسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے اضافی ویاٹ عائد کئے جانے سے ان ریاستوں کے عوام کو اضافی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے ۔ تاہم کے ٹی آر نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ فیول قیمتوں میں اضافہ کیلئے ریاستوں کو ذمہ دار قرار دینا ٹھیک نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فیول قیمتوں میں اضافہ صرف این ڈی اے حکومت کی وجہ سے ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ ہم نے ویاٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے اس کے باوجود ریاستوں کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔ کیا یہی تعاون پر مبنی وفاقی نظام ہے جس کا مودی جی تذکرہ کرتے ہیں ؟ ۔ کے ٹی آر نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 کے بعد سے تلنگانہ نے فیول پر ویاٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے ۔ ورکنگ صدر بی آر ایس نے مرکز کی این ڈی اے حکومت نے فیول پر سیس عائد کیا ہے اور اس میں ریاستوں کو 41 فیصد جائز حصہ داری ملنی چاہئے ۔ تاہم اب تک یہ حصہ داری مرکزی حکومت نے جاری نہیں کی ہے ۔ کے ٹی آر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے فیول قیمتوں پر سیس عائد کرتے ہوئے اب تک 30 لاکھ کروڑ روپئے حاصل کرلئے ہیں لیکن ریاستوں کا حصہ جاری نہیں کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ پہلے پٹرول اور ڈیزل پر سیس کو برخواست کرے تاکہ پٹرول فی لیٹر 70 روپئے اور ڈیزل فی لیٹر 60 روپئے فروخت کیا جاسکے اور اس سے ملک کے عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔