اوڈیشہ کے ایک شمشان میں صرف ’برہمنوں‘ کی نعشیں جلائی جاتی ہیں
کیندرا پاڑہ: ملک کی آزادی کے 75 سال بعد آج بھی کئی معاملات میں ذات پات کا نظام پوری شدت سے برقرار ہے اور حد تو یہ ہے کہ ساری زندگی امتیاز سہنے کے بعد جب موت آجائے تب بھی امتیاز کیا جارہا ہے ۔ اوڈیشہ کے کیندرا پاڑہ میں ایک شمشان گھاٹ ایسا ہے جہاں صرف برہمنوں کی نعشیں جلائی جاتی ہیں۔ کیندرا پاڑہ مشرقی ریاست اوڈیشہ کی قدیم ترین بلدیات میں شامل ہے ۔ 155 برس پہلے اس کا قیام عمل میں آیا تھا تاہم اب تک بھی اس شمشان میں محض برہمنوں کی نعشیں جلائی جاتی ہیں اور اب تو اس کے داخلہ پر بھی صرف برہمن شمشان کا بورڈ بھی آویزاں کردیا گیا ہے ۔ یہ شمشان کیندرا پاڑہ کے ہزاری باغیچہ علاقہ میں واقع ہے ۔ مقامی ذرائع نے کہا کہ حالانکہ اس شمشان کو صرف برہمنوں کی نعشیں جلانے کیلئے کئی برس سے مخصوص کردیا گیا تھا لیکن بضابطہ طور پر سرکاری بورڈ چند دن قبل ہی لگایا گیا ہے ۔ اس شمشان کو سرکاری فنڈز سے بہتر بنایا گیا ہے ۔ دوسری ذاتوں کے لوگوں کیلئے کچھ فاصلے پر دوسرا شمشان موجود ہے ، اسے بھی سرکاری فنڈز سے بہتر بنایا گیا ہے ۔ کیندرا پاڑہ میونسپل کے اگزیکیٹیو آفیسر پر فلا چندرا بسوال نے بتایا کہ یہ معاملہ ان کے علم میں لایا گیا ہے ۔ ذ ات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ دلت حقوق کے کارکنوں اور سیاسی قائدین کی جانب سے اس پر تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ اوڈیشہ دلت سماج کے ضلع صدر ناگیندر جینا نے کہا کہ انہیں یہ جان کر صدمہ ہوا ہے کہ شمشان گھاٹ بھی صرف برہمنوں کیلئے مختص کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے سرکاری ادارہ کی جانب سے ہی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ سی پی ایم ضلع یونٹ کے سکریٹری گیادھر دھل نے کہا کہ اس سلسلہ کو فوری روکا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف برہمنوں کی نعشیں جلانے کا فیصلہ بلدی ادارہ کی جانب سے کیا گیا غیر قانونی فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے دستور میں تمام ذاتوں کے عوام کو جو بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف برہمنوں کیلئے شمشان گھاٹ مختص کرنے سے سماج میں عدم مساوات کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ دلت برادری کے افراد میں بھی اس مسئلہ پر شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتنے کا یہ سلسلہ بند کیا جانا چاہئے ۔ یہ ایک غلط روایت ہے اور اس سے سماج میں نفاق کی صور تحال پیدا ہوسکتی ہے ۔