مسلمانوں کو سیاسی تقدیر بنانے کیلئے طاقتور قیادت کے ساتھ ہونے پر کامیابی

   

بی جے پی اقلیتی مورچہ اور مسلم راشٹریہ منچ الگ الگ پلیٹ فارمس : جمال صدیقی
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔12اپریل۔ہندستان میں مسلمان اپنی سیاسی تقدیر کو بنانے کے لئے طاقتور قیادت کے ساتھ اگر ہوتے ہیں تو انہیں بڑی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔ملک میں مسلم سماج کو سیاسی برتری حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑے گی کیونکہ مسلمانوں کی سیاسی اہمیت اور وقعت کو اب تک اقتدار حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں نے گھٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے نتیجہ میں مسلمان پسماندگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے مذہب ‘ ذات پات سے بالاتر تمام ہندستانیوں کی مجموعی ترقی کے لئے اسکیمات روشناس کروائے ہیں اور کسی بھی اسکیم میں اقلیتوں یا مسلمانوں کو خارج نہیں رکھاگیا ہے۔صدر بھارتیہ جنتا پارٹی قومی اقلیتی مورچہ جناب جمال صدیقی نے شہر حیدرآباد میں اپنے مختصر توقف کے دوران نمائندہ سیاست سے کی گئی خصوصی ملاقات میں ان خیالات کا اظہار کیا او رکہا کہ بی جے پی اقلیتی مورچہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ مسلمانوں کے درمین پہنچ کر پارٹی کے نظریات سے مسلمانوں کو واقف کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہو ںنے اس بات کا اعتراف کیا کہ طویل عرصہ تک بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان پیدا دوری کی وجہ سے پارٹی میں مسلمانوں کے لئے جو جگہ تھی وہ باقی نہیں رہی لیکن اب حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ جناب جمال صدیقی نے بتایا کہ ملک میں جس قوم نے اپنے اتحاد اور اتفاق کے ذریعہ اپنی سیاسی حیثیت کو منوایا ہے ان اقوام کی ترقی یقینی ہوئی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ہندستان میں عیسائیوں نے بی جے پی سے دوری بنائے رکھنے کے بجائے بی جے پی سے قربت اختیار کی اور اس کا نتیجہ ایسٹر کے دن سب کے سامنے ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی چرچ پہنچ کر موم بتی جلاتے ہیں۔ صدر بی جے پی اقلیتی مورچہ نے بتایا کہ ہندستان میں عیسائی اپنی سیاسی اہمیت و وقعت کو منوا رہے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مسلمان اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ جمال صدیقی نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیتی مورچہ اور مسلم راشٹریہ منچ دو مختلف پلیٹ فارمس ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ مسلم راشٹریہ منچ کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیتی مورچہ کو نقصان ہواہے اور بی جے پی اقلیتی مورچہ میں موجود قائدین ہی ایم آر ایم میں موجود ہیں جس کی وجہ سے عوام تک بی جے پی کی رسائی نہیں ہوئی ہے لیکن اب وہ ایم آر ایم سربراہ اندریش کمار سے بات کرتے ہوئے اس بات کو طئے کرچکے ہیں کہ دونوں تنظیموں میں شامل افراد مختلف ہوں گے۔ جمال صدیقی نے ملک بھر میں اقلیتی غالب رائے دہندوں کی جملہ 65 لوک سبھا نشستوں پر ’’ مودی متر‘‘ بنائے جانے کے منصوبہ کے سلسلہ میں بات چیت کے دوران کہا کہ اس منصوبہ میں حلقہ پارلیمان حیدرآباداور سکندرآباد کو بھی شامل کیا گیا ہے جہاں بھارتیہ جنتا اقلیتی مورچہ کو مستحکم کرنے کے علاوہ مسلمانوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوںنے اترپردیش میں بی جے پی کو حاصل ہونے والے 8 فیصد مسلم ووٹ کے متعلق کہا کہ لینڈ گرابرس‘ غنڈہ عناصر اور غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں سے عاجز مسلم شہریوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ کا استعمال خاموشی سے کیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ مسلم سماج کو چاہئے کہ وہ شعائر اسلام اور اپنے مذہبی معاملات پرکسی سے کوئی سمجھوتہ نہ کریں لیکن تاریخ کے نام ظالم حکمرانوں کی طرفداری نہ کریں۔ اس طرح انہوں نے این سی ای آر ٹی کے نصاب سے مغلیہ دور کی تاریخ کو نکالے جانے کے فیصلہ کا دفاع کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مذہبی بنیادوں پر سرکاری فوائد پہنچانے کے حق میں نہیں ہیں۔ جمال صدیقی نے کرناٹک میں 4فیصد مسلم تحفظات کو برخواست کئے جانے پر کئے گئے استفسار پر کہا کہ ہندستان بھر کی تنظیمیں بالخصوص مسلم تنظیمیں یہ کہہ رہی ہے کہ ملک میں سب سے پسماندہ قوم مسلمان ہے اور یہ ایک حقیقت ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک بھر میں 10 فیصد EWS تحفظات فراہم کئے ہیں جو کہ معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے لئے ہیں اور جب مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں تو وہ ان 10 فیصد تحفظات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جمال صدیقی نے بتایا کہ عید الفطر کے بعد ملک بھر سے بی جے پی کے سیاسی نظریات کو قبول کرنے والے افراد کو دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرواتے ہوئے ’’مودی متر‘‘ کے منصوبہ کا آغاز کیا جائے گا۔م