مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا کیا جائے

   

ریاست بھر میں ’ آندولن ‘ شروع کرنے کا انتباہ ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل کرکے 12 فیصد تحفظات دیں جس طرح ایس ٹی سے وعدہ کی تکمیل کی گئی ۔ جناب محمد مشتاق ملک کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی و صدر تحریک مسلم شبان کی زیر صدارت اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مختلف جماعتوں نے پوری شدت سے مطالبہ کیا ۔ تحریک مسلم شبان ، ایم پی جے ، وحدت اسلامی ، ایم بی ٹی ، تلنگانہ ایڈوکیٹ فورم ، جمعیتہ العلماء ، سوشیوریفارم سوسائٹی ، عام آدمی پارٹی کے علاوہ سماجی جہدکار ، ائمہ خطیب ، مفتیان اکرام نے کہا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ مسلم اداروں وقف بورڈ ، اردو اکیڈیمی ، اقلیتی فینانس کارپوریشن کی زبوں حالی اس کا ثبوت ہے ۔ اقلیتی کمیشن طویل عرصہ سے غیر کارکرد ہے ۔ مسلم اداروں مستقل عہدیدار کی بجائے 3 تا 4 اداروں کی ذمہ داری صرف ایک شخص کو دی جارہی ہے ۔ اقلیتی امور کی نگرانی ایک ایسے منسٹر کے پاس ہے جو اقلیتی امور اور مسائل سے ناواقف ہے ۔ 2014 کے انتخابات کے وقت چیف منسٹر نے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا پھر اسمبلی کے خصوصی سیشن میں ایس ٹی کو 10 فیصد اور مسلمانوں کو 12 فیصد کی قرار داد پیش کی گئی ۔ مگر اس وقت سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق 50 فیصد تحفظات سے زیادہ ریاست نہیں دے سکتی تھی مگر 2022 میں 103 دستوری ترمیم کے ذریعہ EWS معاشی کمزور طبقات کو 10 فیصد تحفظات عطا کئے گئے جس کو سپریم کورٹ نے بھی مان لیا ۔ اس کے فوری بعد چیف منسٹر نے ایس ٹی کے تحفظات کو 6 فیصد سے بڑھاکر 10 فیصد کردیا انکے وعدہ کے مطابق پھر مسلمانوں کے تحفظات کو 4 فیصد سے بڑھاکر 12 فیصد کیوں نہیں کیا گیا ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے اعلان کیا کہ ہم یہ مطالبہ صرف مطالبہ کی حد تک نہیں کررہے ہیں حکومت اگر جلد مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کا اعلان نہیں کریگی تو ریاست بھر میں مسلم تحفظات آندولن ( احتجاج ) ہوں گے ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ساری ریاست کا دورہ 12 فیصد تحفظات اور دیگر نا انصافیوں کے خلاف کرے گی ۔ ہم ووٹ کی سیاست نہیں کریں گے حق کے حصول کی آواز بلند کریں گے ۔