ہنر کے لیے سٹ ون اولڈ سٹی کی بدلتی ترقی کے لیے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی
حیدرآباد ۔ 28 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : پرانے شہر کی ترقی کے لیے تشکیل دئیے گئے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کے اسکیل ڈیولپمنٹ کے لیے تشکیل دئیے گئے سٹ ون ادارہ کو تلنگانہ حکومت کی جانب سے فنڈز ، اختیارات اور عملہ کی مناسب سہولت فراہم نہ کرتے ہوئے پرانے شہر اور مسلمانوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ سابق آنجہانی چیف منسٹر ٹی انجیا نے مسلمانوں کو عید کے تحفہ کے طور پر پرانے شہر کی ترقی کے لیے 1981 میں قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ کا قیام عمل میں لایا جس کا مقصد پرانے شہر کی تمام تر ترقی تھا ۔ اس اتھاریٹی کا چیرمین چیف منسٹر اور وزیر بلدی نظم و نسق کو وائس چیرمین ہوا کرتا تھا ۔ اس طرح یہ ادارہ چیف منسٹر کی راست نگرانی میں کام کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا ۔ جس کی ذمہ داری تھی پرانے شہر میں انفراسٹرکچر کو فروغ دینا سیوریج مسائل حل کرنا جن مقامات پر پانی کی قلت ہے ۔ وہاں بورویلز تنصیب کرنا ، سڑکوں کی تعمیرات ، کمیونٹی ہال ، قبرستانوں کی حصار بندی ، مارکٹس کا قیام ، ہاسپٹلس اور اسکولس عمارتوں کی تعمیرات ، غریب عوام کے لیے مکانات وغیرہ کی تعمیرات کے لیے کام کرنا تھا ۔ 64.5 کیلو میٹر تک اس کا احاطہ تھا جس میں 11 اسمبلی حلقے شامل تھے ۔ قلی قطب شاہ اربن اتھاریٹی کے قیام کے بعد آئی اے ایس آفیسرس کے اس ادارہ پر تقررات کئے گئے تاہم این ٹی آر کے چیف منسٹر بننے کے بعد انہوں نے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی پر خصوصی توجہ آئی اے ایس آفیسرس جے پی مورتی ، کے وی رمنا چاری کو اس کا اڈمنسٹریٹر بنایا تب تھوڑے بہت سرگرمیاں ہوئی ، ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے چیف منسٹر بننے کے بعد 2004-09 سے تک انہوں نے 129 کروڑ روپئے کے فنڈز مختص کئے ۔ متحدہ آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے بھی اس ادارے کو 19 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا تھا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو نظر انداز کیا گیا ۔ موجودہ ٹی آر ایس حکومت نے اس ادارہ کو کوئی فنڈز جاری نہیں کیا اور نہ ہی کوئی اختیارات دئیے ۔ سارے اختیارات جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد واٹر ورکس کو دیتے ہوئے اس کو بے جان ادارے میں تبدیل کردیا گیا ۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اپنے قیام کے 40 سال بعد وینٹی لیٹر پر پہونچ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ 1978 میں حیدرآباد ۔ سکندرآباد کے بیروزگار نوجوانوں کو مختلف کورسیس کی تربیت اور خود روزگار فراہم کرنے کے لیے سٹ ون کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ قادر علی خان کو اس کی ذمہ داری دی گئی ۔ انہوں نے اس ادارہ کو ترقی دینے اور قیام کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کئی فنی کورسیس کو متعارف کرایا ۔ لاکھوں طلبہ ان کورسیس سے استفادہ کرتے ہوئے ملک اور بیرون ممالک میں روزگار حاصل کرچکے ہیں ۔ اس ادارے کی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر توسیع دی گئی تاہم علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سٹ ون کو بھی نظر انداز کردیا گیا ۔ ٹی آر ایس حکومت نے میر عنایت علی باقری کو سٹ ون کا صدر نشین بنایا تھا ۔ تاہم 2018 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں اسمبلی حلقہ بہادر پورہ سے امیدوار بناتے ہوئے انہیں سٹ ون کے صدر نشین کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کی ہدایت دی گئی جس کے بعد یہ ادارہ بھی بے یار و مددگار ہوگیا ۔ اس کی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوگئی ہیں ۔ حکومت سے اس ادارے کو بھی کوئی سرپرستی حاصل نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی کوئی فنڈز جاری ہورہے ہیں ۔ سٹ ون کو وزارت یوتھ سرویس کے تحت رکھا گیا ہے ۔ متعلقہ وزیر نے اس کی ترقی اور سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے ابھی تک کوئی اجلاس طلب نہیں کیا ہے ۔۔ ن