مسلمانوں کے خلاف نفرت نہیں، انصاف چاہئے:لیفٹیننٹ ونے نروال کی بیوہ

   

کرنال: جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے بہیمانہ دہشت گرد حملے میں بحریہ کے لیفٹیننٹ ونے نروال سمیت 26 نہتے سیاحوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ مرنے والوں کو شہید کا درجہ دیا جائے۔آج ہریانہ کے کرنال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نروال نے امن و بھائی چارہ قائم رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے کہ لوگ مسلمانوں یا کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز رویہ اختیار کریں۔ بے شک ہم انصاف چاہتے ہیں، لیکن ہمیں صرف اور صرف امن چاہیے۔ یہ دہشت گرد حملہ منگل کی دوپہر کو پہلگام شہر کے قریب، ”منی سوئٹزرلینڈ” کے نام سے مشہور ایک سیاحتی مقام پر ہوا۔اس حملے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، مرنے والوں میں دو غیر ملکی اور دو مقامی رہائشی بھی شامل ہیں۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس حملے کو حالیہ برسوں میں عام شہریوں پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک قرار دیا۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھارت کے دورے پر ہیں اور جموں و کشمیر میں سیاحت و ٹریکنگ کا سیزن عروج پر ہے۔