مسلمان 12 فیصد تحفظات کیلئے سڑکوں پر آئیں، کانگریس مکمل تائید کریگی

   

ٹی آر ایس کو کامیاب بنانے پر وہ بی جے پی کی گود میں بیٹھ رہی ہے: اے ریونت ریڈی
حیدرآباد۔/3 نومبر،( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ کانگریس اے ریونت ریڈی نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرست بی جے پی کے زہریلے ایجنڈہ اور اس کے منصوبوں کو ناکام بنانے سیکولر نظریات رکھنے والی کانگریس کو کامیاب بنائیں ، ٹی آر ایس جیسی علاقائی جماعتوں پر بھروسہ کیا گیا تو وہ کامیابی کے بعد بی جے پی کی تائید کرکے اس کے منصوبوں کو کامیاب بنارہی ہیں۔ سنگاریڈی میں راہول گاندھی سے ملاقات میں اقلیتی نمائندوں کے سوالات کے جواب میں ریونت ریڈی نے یہ بات بتائی جس کی راہول گاندھی نے تائید کی۔ کئی نمائندوں نے اپنے مسائل بتانے کے علاوہ کانگریس کی پالیسیوں پر اعتراض جتایا ۔ جس پر وہ ناراض نہیں ہیں بلکہ اقلیتوں کو کانگریس خاندان کا حصہ مانتے ہیں، رہی بات کانگریس میں اقلیتوں کو نمائندگی ملنے کی اور اقلیتی قائدین ہو تو ہی مسائل اٹھائے جاتے ہیں وہ اس پر واضح کردینا چاہتے ہیں۔ اقلیتوں کے مسائل کو اکثریتی قائدین کی جانب سے اٹھانا زیادہ مناسب رہے گا۔ رہی نمائندگی کی بات تو میرٹ کی بنیاد پر پارٹی میں عہدوں کے علاوہ ٹکٹس ملتے ہیں۔ کانگریس نے محمد علی شبیر کو 33 سال کی عمر میں وزیر بنایا۔ ان کے حلقہ کاماریڈی میں مسلم ووٹر 10 ہزار بھی نہیں ہوں گے ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کانگریس انہیں ٹکٹ دیتی ہے۔ گذشتہ انتخابات میں نظام آباد سے طاہر بن حمدان کو ٹکٹ دیا گیا جو اقلیتوں کو نمائندگی نہیں ملنے کی باتیں کررہے ہیں وہ بند کمروں سے باہر آئیں اور جنہیں ٹکٹ دیا جارہا ہے انہیں کامیاب بنانے کی مہم چلائیں اس سے مسلمانوں کی نمائندگی بڑھے گی ۔ کانگریس نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے ۔ کے سی آر نے اقتدار کے پہلے چار ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن 8 سال کے باوجود 12 فیصد مسلم تحفظات نہیں ملے۔ جس طرح اقلیتیں کانگریس پر اعتراض کررہی ہیں اسی طرح انہیں ٹی آر ایس سے اعتراض جتانا چاہیئے۔ اگر مسلمان 12 فیصد تحفظات کیلئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہیں تو کانگریس اس کی بھرپور تائید کرے گی مگر مسلمان اس مسئلہ پر ٹی آر ایس کی دغا بازی کے باوجود خاموش ہیں۔ ن