ماسکو: کریملن نے چہارشنبہ کو کہا کہ اس نے شمالی کوسوو میں سرب آبادی کے تحفظ کے لیے سربیا کی کوششوں کی حمایت کی ہے لیکن اس نے پرسٹینا کے اس الزام کی تردید کی کہ روس بلقان میں افراتفری پھیلانے کی کوشش میں کسی نہ کسی طرح کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔سربیا کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد کہ اس نے ہفتوں کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اپنی فوج کو سب سے بلند جنگی الرٹ پر رکھا ہے، سربوں نے شمالی کوسوو کے نسلی طور پر منقسم شہر میترویکا میں منگل کو نئی رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔کوسوو کے سیاسی تجزیہ کار میوڈراگ ملیسی وچ نے کہا کہ شمالی کوسوو کی صورت حال کو حل کرنے کی کلید بین الاقوامی برادری کے پاس ہے۔رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ وہ بین الاقوامی برادری کی خاموشی سے پریشان ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پورے بحران کا طویل دورانیہ درحقیقت اس کے بڑھنے کا خطرہ ہ بن رہا ہے۔بلغراد اور پرسٹینا کے درمیان گزشتہ ماہ سے کشیدگی عروج پر ہے جب کوسوو کے شمال میں سربوں کے نمائندے کوسوو حکومت کی جانب سے سربیا کی جاری کردہ کار لائسنس پلیٹوں کو تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد پولیس اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں سے الگ ہو گئے۔بدھ کے روز، کوسوو نے سربیا کے ساتھ اپنی سب سے بڑی سرحدی کراسنگ کو اس وقت بند کر دیا جب مظاہرین نے کوسوو میں اپنے ہم نسل رشتہ داروں کی حمایت کرنے کے لیے سربیا کی جانب سرحد پر رکاوٹیں کھڑی کردیں اور کوسوو کی آزادی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔البانوی مسلمان اکثریت والے کوسوو نے 2008 میں مغرب کی حمایت سے، ایک سال کی اس جنگ کے بعد سربیا سے آزادی کا اعلان کیا تھاجس میں نیٹو نے البانوی مسلمان شہریوں کے تحفظ کے لیے مداخلت کی تھی۔