مسلم نوجوانوں کے خلاف عائد الزامات کی حقیقی صورتحال سے واقف کروانا ناگزیر

   

بااثر افراد بالخصوص علماء و مشائخین ، سیاستداں و عمائدین کے ذریعہ شعور اجاگر کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔16اپریل (سیاست نیوز) ملک بھر میں مسلم نوجوانوں کے خلاف عائد کئے جانے والے الزامات سے متعلق نوجوان نسل میں شعور اجاگر کرتے ہوئے انہیں حقیقی صورتحال سے واقف کروانے کے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں کیونکہ نوجوان نسل کی حرکتیں اور ان کی فلمبندی کے ذریعہ انہیں جس انداز میں نشانہ بنایا جا رہاہے وہ محض ان کی انفرادی شخصیت کو نشانہ نہیں بنایا جا رہاہے بلکہ ان کی عمل کو مذہب سے جوڑتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے مسلم نوجوان اس طرح کی حرکتوں میں ملوث نہیں ہورہے ہیں بلکہ بہ حیثیت قوم مسلمان ’لوجہاد‘ کے علاوہ دیگر متنازعہ سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہوئے ہندستان میں رہنے والے دیگر ابنائے وطن کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ شمالی ہند میں مسلم نوجوانو ںکو نشانہ بنانے کا سلسلہ جو شروع ہوا وہ اب جنوبی ہند کی ریاستوں بالخصوص تلنگانہ تک بھی پہنچنے لگا ہے اور مسلم نوجوانوں پر متعدد الزامات عائد کئے جانے لگے ہیں اسی لئے مسلم نوجوانوں کو ایسی کسی بھی حرکت سے اجتناب و گریز کرنے کی سختی سے تاکید کرنی ضروری ہے جو کہ مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن سکتی ہے۔ مسلم نوجوان خواہ لڑکا ہویا لڑکی ہو وہ آزاد خیالی اور انہیں قانون میں دیئے گئے اختیارات کے استعمال کے نام پر اپنے فیصلوں کے نتیجہ میں اجتماعی طور پر مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں اسی لئے مسلم معاشرہ کے بااثر افراد بالخصوص علماء و مشائخین ‘ سیاستداں و عمائدین کے علاوہ متفکر شہریوں کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کرتے ہوئے بین مذہبی شادیوں اور لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان آزادانہ اختلاط کے معاملہ میں مذہبی اصولوں کے متعلق شعور اجاگر کرنے کے علاوہ ان پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی دانستہ یا نادانستہ حرکتوں کے نتیجہ میں مسلمانوں کو بہ حیثیت امت اجتماعی نقصانا ت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ہندستان کی مختلف ریاستوں میں جہاں ’لو جہاد‘ کے علاوہ غیر مسلم لڑکیوں کو ورغلانے اور ان کی عصمت ریزی کے معاملات میں مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے وہیں اس طرح کی اطلاعات بھی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے منظر عام پر آنے لگی ہیں جن میں مسلم لڑکیوں کو غیر مسلم لڑکوں کے آغوش میں دکھاتے ہوئے ان کی آزاد خیالی کو عام کیا جا رہاہے ۔ بعض مسلم نوجوانوں کی غیر مسلم لڑکیوں سے شادی اوردونوں کے اپنے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے زندگی گذارنے کی ویڈیوجو سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہیں وہ ان معصوم ذہنوں کو متاثر کرنے لگی ہیں جو دینی علوم اور اسلامی اصولوں سے واقف نہیں ہیں۔ ہندستان کی مختلف ریاستوں بالخصوص شمالی ہند کی ریاستوںمیں جو ماحول تیزی سے فروغ پارہا ہے اسے جنوبی ہندمیں پہنچنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ اکابر علماء اور ذمہ داران ملت اسلامیہ اس سنگین مسئلہ کا باریکی سے جائزہ لیتے ہوئے نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کے لئے خصوصی مہم کی منصوبہ بندی کریں تاکہ جس انداز سے ماحول کو مکدر و پراگندہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اس پر قابو پایا جاسکے۔ ’لو جہاد ‘ کے مقابلہ میں شمالی ہند کی ریاستوں میں ’بھگوا لو ٹریپ‘ تیزی کے ساتھ جاری ہے اور کئی مسلم لڑکیوں کو نہ صرف منظم انداز میں نشانہ بنایا جارہا ہے بلکہ ان کے ساتھ لی جانے والی تصاویر اور ویڈیو کو منظر عام پر لانے کی دھمکی دیتے ہوئے انہیں بلیک میل کیا جانے لگا ہے ۔ معاشرہ کے نام نہاد ایلیٹ طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں بالخصوص معروف شخصیتوں کی لڑکیوں کی سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی تصاویر کو ان کے والدین کے مقام و مرتبہ کے نتیجہ میں پوری قوم اور ملت سے جوڑا جانے لگا ہے جبکہ یہ ان کا شخصی عمل ہوسکتا ہے اور ان کے اس عمل سے ان کی تربیت ظاہر ہوتی ہے۔3/m/b