مغربی بنگال سے 4,800 غیرقانونی تارکین وطن ملک بدر

,

   

مزید 836 افراد کو بنگلہ دیش بھیج دیا جائے گا، سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری: چیف منسٹر ادھیکاری

کولکتہ ۔ 7 جون (ایجنسیز) مغربی بنگال سے غیرقانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد کو بنگلہ دیش واپس بھیج دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال سوویندوادھیکاری نے زور دے کر کہا کہ غیر قانونی امیگریشن ایک بڑا مسئلہ ہے اور ریاستی حکومت نے تقریباً 100 کلومیٹر باڑ لگانے کیلئے پہلے ہی بی ایس ایف کو زمین سونپ دی ہے۔سویندو ادھیکاری نے اتوار کو کہا کہ ریاست کے سرحدی اضلاع میں قائم ہولڈنگ سنٹرس سے تقریباً 4,800 غیر قانونی تارکین وطن کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے اور تقریباً 836 ایسے افراد کو ان سنٹرس سے ملک بدر کیا جائے گا۔چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت نے ہند ۔ بنگلہ دیش سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے درکار 556 کلومیٹر میں سے تقریباً 100 کلومیٹر باڑ لگانے زمین پہلے ہی بی ایس ایف کو دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ زمین کی منتقلی ایک مسلسل عمل ہے اور ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سرحد کو محفوظ بنانا ریاستی حکومت کی ترجیح ہے۔بی جے پی کے خصوصی تربیتی کیمپ کی تیاری کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ باڑ لگانے کے عمل میں شمالی بنگال میں چکن نیک کوریڈور کو ترجیح دی گئی ہے۔چکن نیک جسے سرکاری طور پر سلیگوری کوریڈور کے نام سے جانا جاتا ہے، زمین کا ایک تنگ حصہ ہے تقریباً 20 تا 22 کلومیٹر چوڑا اور تقریباً 60 کلومیٹر لمبا ہے۔ یہ علاقہ شمالی بنگال میں ہے جو باقی ہندوستان کو اس کی شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتا ہے۔ سیکیورٹی اور اسٹریٹجک دونوں نقطہ نظر سے اسے ایک اہم اور حساس لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔